انقرہ ( پاک ترک نیوز) ترکیہ نے بھی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کو آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط کر دیا۔
مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سعودی عرب کے بعد ترکیہ نے بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کے امکان کو آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط سمجھتا ہے۔ ترک مؤقف نے ایک بار پھر فلسطینی مسئلے کو خطے کی سفارتی اور سیاسی ترجیحات کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے، جبکہ اسرائیل اور عرب و مسلم دنیا کے تعلقات کے حوالے سے جاری بحث کو بھی نئی جہت فراہم کی ہے۔
ترکیہ طویل عرصے سے فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت کرتا آیا ہے اور اس کا مؤقف رہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا قیام فلسطینی مسئلے کے منصفانہ حل کے بغیر ممکن نہیں۔ حالیہ بیان میں بھی اسی پالیسی کا اعادہ کیا گیا، جس کے مطابق اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے کسی بھی وسیع علاقائی عمل کو فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور آزاد ریاست کے قیام سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
ابراہیمی معاہدہ دراصل خطے کے بعض ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی بحالی اور تعاون کو فروغ دینے کے مقصد سے سامنے آیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت کئی ممالک نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے، تاہم متعدد مسلم ممالک نے اس عمل کے حوالے سے فلسطینی مسئلے کو بنیادی اہمیت دینے پر زور دیا۔ ترکیہ کے حالیہ مؤقف کو اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ترکیہ کا بیان نہ صرف اس کی روایتی خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ خطے میں اس کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انقرہ یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ علاقائی استحکام اور دیرپا امن کے لیے فلسطینی عوام کے جائز مطالبات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس تناظر میں دو ریاستی حل کو ہی تنازع کے قابلِ قبول اور عملی حل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
فلسطینی حلقوں نے ترکیہ کے مؤقف کا خیر مقدم کیا ہے اور اسے بین الاقوامی سطح پر فلسطینی کاز کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات عالمی برادری کی توجہ دوبارہ فلسطینی مسئلے کی جانب مبذول کرانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے میں سیاسی اور سکیورٹی صورتحال مسلسل تبدیلی کے مراحل سے گزر رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ترکیہ اور سعودی عرب جیسے اہم علاقائی ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کے قیام کو ترجیح دینا مستقبل کی سفارتی کوششوں پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔ یہ مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں تعلقات کی نئی صف بندی کے باوجود فلسطینی مسئلہ اب بھی خطے کی سیاست کا ایک مرکزی اور فیصلہ کن عنصر ہے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ آنے والے مہینوں میں اس موضوع پر مزید سفارتی سرگرمیاں دیکھنے میں آ سکتی ہیں، تاہم اس وقت ترکیہ کا پیغام واضح ہے کہ خطے میں جامع اور پائیدار امن کا راستہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے ہو کر گزرتا ہے۔












