انقرہ ( پاک ترک نیوز) ترکیہ نے اپنی فضائی اور میزائل دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے ایک ہی وقت میں دو بڑے مغربی دفاعی منصوبوں پر تیزی سے پیش رفت شروع کر دی ۔ ایک جانب امریکا سے جدید ایف-16 بلاک 70 وائپر جنگی طیاروں کی خریداری کا عمل جاری ہے، جبکہ دوسری جانب اٹلی کے تعاون سے SAMP/T طویل فاصلے تک مار کرنے والے فضائی دفاعی نظام کی خریداری اور مشترکہ تیاری پر مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں۔
یہ دونوں منصوبے ایسے وقت میں آگے بڑھ رہے ہیں جب 7 اور 8 جولائی کو انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس منعقد ہونے جا رہا ہے، جہاں دفاعی صنعت میں تعاون اہم موضوع ہوگا۔
ترک حکومت امریکی دفاعی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن سے 40 نئے ایف-16 بلاک 70 وائپر جنگی طیارے خرید رہی ہے، جبکہ ترک فضائیہ کے زیر استعمال 79 ایف-16 طیاروں کو بھی جدید معیار پر اپ گریڈ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا جدید تیمور کروز میزائل دشمنوں کے لیے خطرے کی گھنٹی
ترک حکام کے مطابق خریداری کی ابتدائی منظوری اور ادائیگی کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے، تاہم حتمی پیداواری معاہدہ ابھی تک طے نہیں پایا۔ دونوں ممالک کے درمیان قیمت، طیاروں کی حتمی تکنیکی خصوصیات اور ایک اہم شرط پر مذاکرات جاری ہیں۔
انقرہ چاہتا ہے کہ اسے ایف-16 کے مشن کمپیوٹر کا سورس کوڈ فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنے مقامی ÖZGÜR اپ گریڈ پروگرام کے تحت تیار کردہ سسٹمز اور ہتھیار ان طیاروں میں خود نصب کر سکے۔اطلاعات کے مطابق نئے طیاروں کی پہلی کھیپ 2027 سے قبل ملنے کا امکان نہیں۔
ترکیہ کو 2019 میں روس سے S-400 فضائی دفاعی نظام خریدنے پر امریکا نے F-35 پروگرام سے خارج کر دیا تھا اور اس پر پابندیاں بھی عائد کی گئی تھیں۔
اسی وجہ سے ایف-16 بلاک 70 معاہدہ ترک فضائیہ کے لیے نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے تاکہ مقامی طور پر تیار ہونے والا پانچویں نسل کا کان جنگی طیارہ مکمل طور پر تیار ہونے تک فضائی طاقت برقرار رکھی جا سکے۔ذرائع کے مطابق ترکیہ اس کے ساتھ ساتھ یورو فائٹر ٹائفون کی خریداری پر بھی بات چیت کر رہا ہے۔
ترکیہ نے اٹلی کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے فضائی دفاعی نظام کی خریداری اور مشترکہ تیاری کے لیے مذاکرات کا نیا دور شروع کیا ہے۔یہ نظام یورپی دفاعی اتحاد تیار کرتا ہے۔ترکیہ اور یوروسام کے درمیان اس منصوبے پر ابتدائی فزیبلٹی معاہدہ 2018 میں ہوا تھا، تاہم فرانس کی جانب سے کئی برس تک اس منصوبے میں رکاوٹیں موجود رہیں۔ اب اٹلی مشترکہ پیداوار کی بھرپور حمایت کر رہا ہے۔
منصوبے کے تحت ترک کمپنیاں ریڈار، فائر کنٹرول سسٹم اور میزائل کے مختلف ذیلی نظاموں کی تیاری اور انضمام میں اہم کردار ادا کریں گی۔
رپورٹ کے مطابق 2026 میں ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ کے دوران ایران کی جانب سے داغے گئے کئی میزائل نیٹو کے دفاعی نظام نے تباہ کیے، جس سے ترکیہ کے طویل فاصلے کے فضائی دفاع میں موجود خامیاں واضح ہو گئیں۔












