اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان نے اپنے جدید فضائی دفاعی پروگرام میں ایک اور اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے تیمور ایئر لانچڈ کروز میزائل کی کامیاب آزمائش اور آپریشنل تیاری کا اعلان کر دیا۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق کم ریڈار شناخت رکھنے والا یہ جدید کروز میزائل پاکستان فضائیہ کو طویل فاصلے سے انتہائی درستگی کے ساتھ اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ اس نظام کی بدولت جنگی طیارے دشمن کی فضائی حدود میں داخل ہوئے بغیر دور سے حملہ کر سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق تیمور میزائل پاکستان فضائیہ کے ادارے ایئر ویپنز کمپلیکس نے تیار کیا ہے جبکہ اسے عالمی سطح پر برآمدی مقاصد کے لیے بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔ یہ میزائل پاکستان کے راعد- ٹو پروگرام کی ٹیکنالوجی سے اخذ کیا گیا ہے، تاہم اسے روایتی جنگی مقاصد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میزائل کی سب سے نمایاں خصوصیات میں کم ریڈار شناخت، زمین کے نشیب و فراز کے مطابق پرواز، جدید نیویگیشن سسٹم اور سمندر کی سطح کے قریب پرواز کی صلاحیت شامل ہیں، جس سے اسے ٹریک کرنا اور روکنا نسبتاً مشکل ہو جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تیمور میزائل تقریباً 600 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے باعث جے ایف-17 تھنڈر طیارے اب پہلے سے کہیں زیادہ فاصلے سے اہم عسکری اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس سے پاکستان فضائیہ کی روایتی اسٹرائیک صلاحیت میں اضافہ متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور چین کا فوجی تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تقریباً 450 سے 500 کلوگرام وزنی وارہیڈ لے جانے والا یہ میزائل کمانڈ سینٹرز، ریڈار تنصیبات، لاجسٹک مراکز اور مضبوط دفاعی ڈھانچوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دفاعی مبصرین کے مطابق جدید جنگی حکمتِ عملی میں اب زیادہ زور ایسے ہتھیاروں پر دیا جا رہا ہے جو دشمن کے دفاعی نظام کی حدود سے باہر رہتے ہوئے کارروائی کر سکیں۔ اسی تناظر میں تیمور پروگرام کو پاکستان کی طویل فاصلے تک مار کرنے والی صلاحیت کو مضبوط بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔












