انقرہ ( پاک ترک نیوز) ایران جنگ کے دوران ترکیہ کے بیس ارب ڈالر کے سونے کی فروخت سے عالمی مارکیٹ میں ہلچل مچ گئی ۔
رپورٹس کے مطابق ترکیہ کے مرکزی بینک نے ایران جنگ کے آغاز کے بعد صرف ایک ماہ میں 52 ٹن سونا فروخت کیا۔ مزید 79 ٹن سونے کی سوئپس کر کے مارکیٹ میں اضافی رسد پیدا کی گئی۔ ترکیہ کے پاس اب مرکزی بینک کے ذخائر میں صرف 440 ٹن سونا بچ گیا جو دو سال کی سب سے کم سطح پر ہے ۔
ترکیہ کی طرف سے سونے کی فروخت سے عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت گیارہ اعشاریہ پانچ فیصد تک گر گئی مرکزی بینکوں کی یہ فروخت سونے کی قیمت میں 1,000 ڈالر فی اونس کمی کی سب سے بڑی وجہ بنی ہے۔
ترکیہ کے بعد اب روس، پولینڈ اور دیگر ممالک بھی سونے کی فروخت پر غور کر رہے ہیں تاکہ کرنسی اور مالی پوزیشن مضبوط ہو سکے۔
ماہرین کے مطابق سونے کی فروخت کا مقصد ترکیہ کی کرنسی کی قدر کو سہارا دینا تھا ایران جنگ اور توانائی کے عالمی بحران نے کرنسیوں اور مالیاتی پوزیشنز پر دباؤ بڑھا یا












