
از: سہیل شہریار
دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکہ کی کرنسی ڈالر جسے گرین بک بھی کہاجاتا ہے کی قوت خرید میں مسلسل کمی ہورہی ہے ۔ جو وقت کے ساتھ ملکی میعشت کی گراوٹ کی نشاندہی کرتی ہے ۔ اس حوالےسے امریکہ کے محکمہ خزانہ کے اعدادوشمار کے مطابق 1913میں جب ملک کے وفاقی بنک فیڈرل ریزرو کا قیام عمل میں آیا تھا اس کے مقابلے میں آج ایک ڈالر کی خریداری کی طاقت صرف چند سینٹ کے برابر ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ آج دنیا کے پیشتر ملک دوبارہ سونے کے معیار کی جانب لوٹ رہے ہیں ۔
امریکی ڈالر کی قوت خرید میں کمی کا سلسلہ 1900کی دہائی کے اوائل سے ہی شروع ہوگیا تھا جس کی بنیادی وجوہات میں افراط زر اور نوٹوں کی بڑھتی ہوئی چھپائی شامل ہے جن کی وجہ سے وقت کے ساتھ ساتھ ڈالر کی وقعت گر رہی ہے جبکہ دو عالمی جنگوں کے اثرات کے ساتھ امریکہ کی جانب سے 1971میں سونے کے معیار کو ختم کرنے کے اقدام، تیل کی قیمتوں میں تیزی سے رد و بدل اور رواں صدی میں نائن الیون کے بعد دہشتگردی کیخلاف جنگ اور حالیہ برسوں میں کوویڈکے حملے کو بھی اس کا بڑک محرک گردانا جاتا ہے۔
امریکی ماہرین معیشت کا کہناہے ڈالر کے سلسلے میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پچھلی صدی کے دوران اس کی قیمت مستقل طور پر کھو گئی ہے۔ چنانچہ امریکی فیڈرل ریزرو کے 1913سے رواں سال تک کے صارف انڈیکس کے اعداد وشمار اس حقیقت کوواضح کرنے کیلئے کافی ہیں ۔
1913میں ڈالر کی قوت خرید 1017پوائنٹس تھی جو 1923میں 595پوائنٹس مگر 1933میں بڑھ کر 733پوائنٹس ہوگئی ۔ اس کے بعد یہ مسلسل کم ہورہیہے ۔1943میں 591پوائنٹس پر آنے کے بعد 1953یمں 375پوائنٹس پھر 1973میں 234پوائنٹس اور 1993میں نمایاں کمی کے بعد 70پوائنٹس تک گر گئی ۔ رواں صدی کے آغاز پر 2003میں 55پوائنٹس اور اب اختتام کی جانب بڑھتے ہوئے جاری سال 2025میں یہ محض 30پوائنٹس رہ گئی ہے ۔
ماہرین معیشت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ 1971امریکی ڈالر کوسونے کی حمایت حاصل تھی مگر اس نظام کو صدر نکسن نے ختم کردیا ۔ کیونکہ امریکہ اس میں مطابقت قائم رکھتے ہوئے سونے سے کہیں زیادہ ڈالر چھاپ رہا تھا جبکہ بیرونی ممالک اپنے ڈالر کے ذخائر کے بدلے میں تیزی سے سونے کا مطالبہ کررہے تھے ۔ اس نظام کے خاتمے نے جہاں امریکی پالیسی سازوں کو معیشت کا انتظام کرنے میں زیادہ لچک فراہم کردی وہیں رقم کی تخلیق بھی آسان ہوگئی مگر معاشی اصولوں کے مطالب جب آبادی ،معاشی پیداوار اورکریڈٹ کی مانگ جیسے عوامل میں اضافہ ہوتا ہے تو رقم کی فراہمی صحت مند ہوسکتی ہے بصورت دیگر یہ معاشی تنزلی کو جنم دیتی ہے اور امریکہ کو اسی کا سامنا ہے۔












