اتوار , 13 ستمبر , 2026
  • لاگ ان کریں
پاک ترک نیوز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

امریکی ڈالر کی قوت خرید میں کمی ،سونا پھر عالمی معیار بننے لگا

9 مہینے پہلے
A A
امریکی ڈالر کی قوت خرید میں کمی ،سونا پھر عالمی معیار بننے لگا
Share on Facebookwhatsapp

از: سہیل شہریار

دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکہ کی کرنسی ڈالر جسے گرین بک بھی کہاجاتا ہے کی قوت خرید میں مسلسل کمی ہورہی ہے ۔ جو وقت کے ساتھ ملکی میعشت کی گراوٹ کی نشاندہی کرتی ہے ۔ اس حوالےسے امریکہ کے محکمہ خزانہ کے اعدادوشمار کے مطابق 1913میں جب ملک کے وفاقی بنک فیڈرل ریزرو کا قیام عمل میں آیا تھا اس کے مقابلے میں آج ایک ڈالر کی خریداری کی طاقت صرف چند سینٹ کے برابر ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ آج دنیا کے پیشتر ملک دوبارہ سونے کے معیار کی جانب لوٹ رہے ہیں ۔


امریکی ڈالر کی قوت خرید میں کمی کا سلسلہ 1900کی دہائی کے اوائل سے ہی شروع ہوگیا تھا جس کی بنیادی وجوہات میں افراط زر اور نوٹوں کی بڑھتی ہوئی چھپائی شامل ہے جن کی وجہ سے وقت کے ساتھ ساتھ ڈالر کی وقعت گر رہی ہے جبکہ دو عالمی جنگوں کے اثرات کے ساتھ امریکہ کی جانب سے 1971میں سونے کے معیار کو ختم کرنے کے اقدام، تیل کی قیمتوں میں تیزی سے رد و بدل اور رواں صدی میں نائن الیون کے بعد دہشتگردی کیخلاف جنگ اور حالیہ برسوں میں کوویڈکے حملے کو بھی اس کا بڑک محرک گردانا جاتا ہے۔
امریکی ماہرین معیشت کا کہناہے ڈالر کے سلسلے میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پچھلی صدی کے دوران اس کی قیمت مستقل طور پر کھو گئی ہے۔ چنانچہ امریکی فیڈرل ریزرو کے 1913سے رواں سال تک کے صارف انڈیکس کے اعداد وشمار اس حقیقت کوواضح کرنے کیلئے کافی ہیں ۔


1913میں ڈالر کی قوت خرید 1017پوائنٹس تھی جو 1923میں 595پوائنٹس مگر 1933میں بڑھ کر 733پوائنٹس ہوگئی ۔ اس کے بعد یہ مسلسل کم ہورہیہے ۔1943میں 591پوائنٹس پر آنے کے بعد 1953یمں 375پوائنٹس پھر 1973میں 234پوائنٹس اور 1993میں نمایاں کمی کے بعد 70پوائنٹس تک گر گئی ۔ رواں صدی کے آغاز پر 2003میں 55پوائنٹس اور اب اختتام کی جانب بڑھتے ہوئے جاری سال 2025میں یہ محض 30پوائنٹس رہ گئی ہے ۔
ماہرین معیشت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ 1971امریکی ڈالر کوسونے کی حمایت حاصل تھی مگر اس نظام کو صدر نکسن نے ختم کردیا ۔ کیونکہ امریکہ اس میں مطابقت قائم رکھتے ہوئے سونے سے کہیں زیادہ ڈالر چھاپ رہا تھا جبکہ بیرونی ممالک اپنے ڈالر کے ذخائر کے بدلے میں تیزی سے سونے کا مطالبہ کررہے تھے ۔ اس نظام کے خاتمے نے جہاں امریکی پالیسی سازوں کو معیشت کا انتظام کرنے میں زیادہ لچک فراہم کردی وہیں رقم کی تخلیق بھی آسان ہوگئی مگر معاشی اصولوں کے مطالب جب آبادی ،معاشی پیداوار اورکریڈٹ کی مانگ جیسے عوامل میں اضافہ ہوتا ہے تو رقم کی فراہمی صحت مند ہوسکتی ہے بصورت دیگر یہ معاشی تنزلی کو جنم دیتی ہے اور امریکہ کو اسی کا سامنا ہے۔

موضوعات : currencydollargold
ShareSend

متعلقہ خبریں

چین نے سمندر کی گہرائی میں سونے اور چاندی کے بڑے ذخائر دریافت کرلیے
تازہ ترین

چین نے سمندر کی گہرائی میں سونے اور چاندی کے بڑے ذخائر دریافت کرلیے

12 ستمبر , 2026
Slight increase in gold and silver prices.
تازہ ترین

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں معمولی اضافہ

12 ستمبر , 2026
A banana worth $6 million
تازہ ترین

60لاکھ ڈالر کا کیلا؟

10 ستمبر , 2026
30 billion rupees spent on printing currency notes in Pakistan
تازہ ترین

پاکستان میں کرنسی نوٹ چھاپنے پر 30 ارب روپے خرچ

10 ستمبر , 2026
Pakistanis remitted $3.7 billion to the country in August; remittances saw a 16.5% increase.
تازہ ترین

اگست میں پاکستانیوں نے 3 ارب 70 کروڑ ڈالر وطن بھیج دیے، ترسیلات زر میں 16.5 فیصد اضافہ

9 ستمبر , 2026
New conditions for Ghana's gold exporters
تازہ ترین

گھانا کی سونے کی برآمدکنندگان کیلئے نئی شرائط

5 ستمبر , 2026
اگلی خبر
ایشز تیسرا ٹیسٹ :انگلینڈ پر میچ اور سیریز میں شکست کے سائے منڈلانے لگے

ایشز تیسرا ٹیسٹ :انگلینڈ پر میچ اور سیریز میں شکست کے سائے منڈلانے لگے

یہ بھی پڑھیں

Jupiter's moon Europa has twice as much water under its oceans as Earth's

مشتری کے چاند یوروپا کے نیچے زمین کے سمندروں سے دوگنا پانی

13 ستمبر , 2026
Hundreds of earthquakes discovered under Antarctica's glacier, scientists are also worried

انٹارکٹیکا کے گلیشیئر کے نیچے سینکڑوں زلزلے دریافت، سائنسدان بھی پریشان

13 ستمبر , 2026
Hina Javed Murder Case Family expresses lack of confidence regarding alleged tampering with the investigation and evidence.

حنا جاوید قتل کیس: اہلخانہ کا تفتیش اور شواہد میں مبینہ ٹیمپرنگ پر عدم اعتماد

13 ستمبر , 2026
Police encounter in Karachi, one terrorist killed

کراچی میں پولیس مقابلہ،ایک دہشت گرد ہلاک

13 ستمبر , 2026
Houthis claim control of the strategic Red Sea island of Perim (Mayun).

حوثیوں کا بحیرہ احمر کے اسٹریٹجک جزیرے میون پر قبضے کا دعویٰ

13 ستمبر , 2026

ہمارے بارے میں

"پاک ترک نیوز" ایک غیر جانب دار اردو نیوز ویب سائٹ ہے جو پاکستان، ترکی اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تجزیات، اور فیچر مضامین کو اردو قارئین تک بروقت اور مستند انداز میں پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ ہم پاک ترک تعلقات، عالمی سیاست، معیشت، ثقافت، اور سوشل ایشوز کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں، تاکہ قارئین باخبر، با شعور اور با اثر رہیں۔

  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • ترکک
  • دنیا
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی
  • اعلانِ لاتعلقی
  • رابطہ کریں

ہمارا سوشل میڈیا فالو کریں

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔