کراچی ( پاک ترک نیوز) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالی سال 2025-26 کے دوران کرنسی نوٹ چھاپنے پر 29 ارب 60 کروڑ روپے خرچ کیے، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ اخراجات 27 ارب 80 کروڑ روپے تھے۔اعداد و شمار کے مطابق ایک سال کے دوران کرنسی نوٹوں کی طباعت کے اخراجات میں ایک ارب 80 کروڑ روپے یعنی تقریباً 6 فیصد اضافہ ہوا۔
اخراجات میں اضافے کی بڑی وجہ ملک میں زیر گردش کرنسی میں مسلسل اضافہ بتائی گئی ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران زیر گردش کرنسی میں ایک کھرب 80 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد مالی سال کے اختتام پر ملک میں زیر گردش مجموعی کرنسی 126 کھرب 59 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ماہرین کے مطابق کاغذ، سیاہی، نقل و حمل اور دیگر انتظامی و رسدی اخراجات میں اضافے نے بھی نوٹوں کی طباعت کی لاگت بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی بلوں میں سلیب نظام کے خلاف درخواست، نیپرا سے تفصیلی جواب طلب
پاکستان میں کرنسی نوٹ پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن میں چھاپے جاتے ہیں، جو اسٹیٹ بینک کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔












