
از: سہیل شہریار
پاکستان کی جانب سے آج سے دوہفتے پہلے دوست اور برادر ملکوں چین، ترکیہ، مصراور سعودی عرب کی ایماا پرایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کرانے کے لیے مرکزی کردار ادا کرنےکی حامی بھرنے کے بعدملک کی اعلیٰ ترین قیادت کی انتھک سفارتی کوششیں رنگ لے آئی ہیں۔ ایک طرف دو ہفتوں کے لئے فائر بندی پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہے۔ تو ساتھ آبنائے ہرمز کو بھی جہازوں کی آمد رفت کے لئے کھول دیا گیا ہے۔اور اب توقع ہے کہ جمعہ کے روز سے فریقین کے درمیان اسلام آباد میں مزاکرات کا آغاز ہو گا۔
پاکستان کی جانب سے حاصل کی گئی تاریخی سفارتی کامیابی کی تفصیلات سے پتہ چلتاہے کہ کس طرح ملک کی سول اور عسکری قیادت نے پوری لگن کے ساتھ دنیا کو ایک بڑی تباہی سے بچانے کے لیے دن رات کوششیں کیں۔
اہمذرائع کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے ایران کے سول ڈھانچے کو تباہ کرنے کی دھمکیوں کو 7اپریل کی شب عملی جامہ پہنانے کے لئے پورے ایران میں 200سے زائد مقامات کو نشان زد کئے جانے کے بعد اس تباہی کو روکنا پاکستانی قیادت کے لیے انتہائی مشکل اور اعصاب شکن تھا۔ جہاں جنگ کے بادل گہرے ہو رہے تھےاور وقت انتہائی کم تھا۔اس نازک موڑ پر وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیر اعظم اسحق ڈار اور قومی سلامتی کے مشیر اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل عاصم ملک نے بیک وقت امریکا، ایران، چین، روس، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ رابطوں کا جال بچھایا۔جس کے دوران مسلسل رابطوں کا سلسلہ 20گھنٹے سے زیادہ جار ی رہا۔
ذرائع کے مطابق اس تاریخی سفارتی مشنکی تکمیل کے لئے تین مرحلوں پر مشتمل حکمت عملی پر کام کا آغاز منگل کی صبح سے ہوا جو رات دس بجے تک جاری رہا۔ اسی دوران شام چھ بجے سے رابطوں کے دوسرے مرحلے کا آغاز کردیا گیا جو رات ساڑھے نو بجے ایران کے دوہفتوں کی جنگ بندی پر ابتدائی اتفاق کے ساتھ مکمل ہوا۔اسکے بعد ایک گھنٹے کا وقفہ لیا گیا اور پھر اہم اور فیصلہ کن رابطوں کا سلسلہ رات گیارہ بجے سے شروع ہوا جو بدھ کی صبح ساڑھے 3 بجے تک مسلسل جاری رہا۔ جب امریکی صدر ٹرمپ نےاپنے سماجی میڈیا اکاؤنٹ پر میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان کیا۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تمام رابطوں میں جہاں وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر پیش پیش تھے اور مختلف ممالک کی قیادت سے بات چیت کر رہے تھے۔ وہیںاس پورے مشن میں وزارتِ خارجہ اور قومی سلامتی کے اداروں کے حکام نے ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کیا اور تمام معاملات کو انتہائی ذمہ داری اور رازداری کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچایا۔
ذرائع کے مطابق اب امریکہ اور ایران کے دمیان مستقل جنگ بندی کے لئے مزاکرات 10اپریل جمعہ کے روز سے اسلام آباد میں شروع ہو رہے ہیں ۔جن میں امریکہ کی جانب سے نائب صدر جے ڈی وینس، نمائندہ خصوصی سٹیو وٹ کوف اور امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر جبکہ ایران کی جانب سے نائب صدر محمد رضا عارف، پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی وفود کے ہمراہ شرکت متوقع ہے۔












