لاہور( پاک ترک نیوز) پاکستان ریلوے کے اہم ایم ایل ون منصوبے کی تکمیل کے لیے فنڈز کا حصول بڑا چیلنج بن گیا، حکومت نے منصوبے کے دوسرے مرحلے کے لیے ریلوے کی زمین رہن رکھ کر مقامی بینکوں سے قرض لینے پر غور شروع کردیا۔انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے سینیٹ کو بتایا کہ کراچی سے روہڑی تک 480 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک کے پہلے مرحلے پر تخمینہً 2 ارب 10 کروڑ ڈالر لاگت آئے گی۔ منصوبے کی حتمی لاگت تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن مکمل ہونے کے بعد طے کی جائے گی، جبکہ تمام منظوریوں اور فنڈز کی دستیابی سے مشروط تعمیراتی کام رواں مالی سال شروع ہونے اور ڈھائی سال میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔
دوسری جانب ملتان سے روہڑی تک دوسرے مرحلے کے لیے 470 ارب روپے درکار ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس منصوبے کی مالیاتی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک کے گورنر کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی ہے۔ حکام کے مطابق ریلوے کی زمین کو ضمانت کے طور پر استعمال کرکے مقامی کمرشل بینکوں سے فنڈز حاصل کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان ریلوے کی 67 فیصد پٹڑیاں اور 60 فیصد ریلوے انجن اور دیگر متحرک اثاثے اپنی مقررہ عمر پوری کرچکے ہیں۔ سال 2023 سے 2025 کے دوران ریلوے کے 299 حادثات رپورٹ ہوئے، جن میں 241 ٹرینوں کے پٹری سے اترنے کے واقعات شامل ہیں۔ریلوے میں عملے کی کمی بھی سنگین مسئلہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق گریڈ ایک سے 22 تک مجموعی طور پر 22 ہزار 546 اسامیاں خالی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حارث رؤف کا ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز سے معاہدہ، پہلی بار نئی ٹیم کی نمائندگی کریں گے
ایم ایل ون منصوبے کے دوسرے مرحلے میں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے مجوزہ ماڈل کے تحت تعمیراتی کام تین سال میں مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس کے بعد ٹریک پاکستان ریلوے کو 25 سالہ لیز پر دیا جائے گا، جبکہ لیز کی مدت ختم ہونے پر اس کی ملکیت منتقل کی جائے گی۔












