لاہور( پاک ترک نیوز) دنیا کے بیشتر زیرِ زمین ریل اسٹیشن سڑک سے چند منزلیں نیچے تعمیر کیے جاتے ہیں، مگر کچھ ایسے بھی ہیں جو اتنی گہرائی میں واقع ہیں کہ پلیٹ فارم تک پہنچنے میں آٹھ منٹ تک لگ جاتے ہیں اور مسافروں کے کان ہوائی جہاز کی لینڈنگ کی طرح بند ہونے لگتے ہیں۔
اس غیر معمولی گہرائی کی بنیادی وجوہات میں پہاڑی علاقے، دریا کے بلند کنارے، تاریخی شہروں کی ساخت اور سرد جنگ کے دور میں ایسے اسٹیشن تعمیر کرنا شامل ہے جو بمباری کی صورت میں محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو سکیں۔
یہ اسٹیشن صرف آمدورفت کا ذریعہ نہیں بلکہ زیرِ زمین شاہکار بھی ہیں، جہاں خوبصورت نقش و نگار، دیواروں پر شاندار تصویری کام اور دنیا کی طویل ترین برقی سیڑھیاں موجود ہیں۔
چین کے شہر چونگ چھنگ میں واقع ہونگ یان چھون دنیا کا سب سے گہرا زیرِ زمین ریل اسٹیشن ہے، جو زمین سے 116 میٹر نیچے واقع ہے۔ اس کا افتتاح جنوری 2022 میں ہوا جبکہ بعد میں ایک اور ریل لائن بھی اس سے منسلک کی گئی۔
اسٹیشن کے دو مرکزی داخلی راستوں کی بلندی میں 141 میٹر کا فرق ہے۔ اوپری دروازے سے برقی سیڑھی کے ذریعے نیچے پہنچنے میں تقریباً آٹھ منٹ لگتے ہیں جبکہ تیز رفتار لفٹ میں سفر کے دوران مسافروں کے کان بند ہو جاتے ہیں۔سن 2025 میں اس منصوبے کو عالمی سرنگ سازی اعزاز سے بھی نوازا گیا۔
دوسرے نمبر پر شمالی کوریا کا زیرِ زمین ریل نظام دنیا کے گہرے ترین نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس کی گہرائی 110 میٹر سے زیادہ ہے، اگرچہ اس کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔ یہاں سال بھر درجہ حرارت تقریباً 18 درجے رہتا ہے جبکہ سطح زمین تک پہنچنے میں تقریباً ساڑھے تین منٹ لگتے ہیں۔
تیسرے نمبر پر یوکرین کے دارالحکومت کیف میں واقع آرسینالنا کئی دہائیوں تک دنیا کا سب سے گہرا واحد زیرِ زمین ریل اسٹیشن رہا۔اس کا افتتاح 1960 میں ہوا۔ سن 2022 میں روس۔یوکرین جنگ کے دوران ہزاروں افراد نے میزائل اور ڈرون حملوں سے بچنے کے لیے اسی اسٹیشن میں پناہ لی۔
یوکرین کا زولوتی ووروتا اسٹیشن کی گہرائی 96.5 میٹر ہے یہ اسٹیشن یورپ کے خوبصورت ترین زیرِ زمین ریل اسٹیشنوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
1989میں کھولے گئے اس اسٹیشن کی دیواروں پر قدیم ریاست کیف کے حکمرانوں اور مذہبی شخصیات کی 80 خوبصورت تصویری جھلکیاں بنائی گئی ہیں۔ جنگ کے دوران اسے بھی پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا گیا۔
چین کا ہونگ تو دی اسٹیشن 94.47 میٹر گہرا ہے ۔اس کے مختلف حصوں کو ملانے کے لیے 90 سے زیادہ برقی سیڑھیاں نصب ہیں، جس کی وجہ سے یہ دنیا بھر میں اپنی منفرد ساخت کے باعث مشہور ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پانچ مسافر ٹرینیں نجی شعبے کے حوالے
یوکرین کا یونیورسٹیٹ اسٹیشن 87 میٹر گہر اہے یہ اسٹیشن 1960 میں قائم کیا گیا اور قریبی قومی جامعہ کے نام پر رکھا گیا۔سرخ سنگِ مرمر کے ستون اور سفید سنگِ مرمر کے مجسمے اس کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ جنگ کے دوران اسے بھی محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا گیا۔
روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ کا ایڈمرلٹیسکایا اسٹیشن سب سے گہرا زیرِ زمین ریل اسٹیشن ہے۔اسے مکمل ہونے میں کئی دہائیاں لگیں۔ یہاں مسافروں کو پہلے ایک طویل برقی سیڑھی کے ذریعے درمیانی حصے تک اور پھر دوسری برقی سیڑھی کے ذریعے پلیٹ فارم تک جانا پڑتا ہے۔
ماسکو کا پارک پوبیدی اسٹیشن گہرا زیرِ زمین ریل اسٹیشن ہے۔یہاں یورپ کی طویل ترین برقی سیڑھیاں موجود ہیں، جن کی لمبائی 126 میٹر اور ہر ایک میں 740 زینے ہیں۔ ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچنے میں تقریباً تین منٹ لگتے ہیں۔
امریکی شہر پورٹلینڈ میں واقع واشنگٹن پارک شمالی امریکا کا سب سے گہرا زیرِ زمین سفری اسٹیشن ہے۔یہ پہاڑی علاقے کے نیچے تعمیر کیا گیا ہے۔ یہاں برقی سیڑھیوں کے بجائے تیز رفتار لفٹیں استعمال کی جاتی ہیں جبکہ اندر کا درجہ حرارت سال بھر تقریباً 10 درجے رہتا ہے۔
روس کا 67 میٹر گہرا پلوشچاد لینینا اسٹیشن 1958 میں کھولا گیا تھا۔اس کی عمارت ریلوے ٹرمینل سے منسلک ہے اور اندر ولادیمیر لینن کی تاریخی واپسی کی یاد میں خوبصورت تصویری نقش بنایا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق انجینئر عام حالات میں اتنی گہرائی میں سرنگیں نہیں کھودتے۔ پہاڑی علاقے، دریا کے کنارے، تاریخی عمارتوں کا تحفظ یا جنگ کے دوران محفوظ پناہ گاہیں بنانے کی ضرورت انہیں زمین کے بہت نیچے تعمیر کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
اب دنیا کے گہرے ترین زیرِ زمین ریل اسٹیشن کا اعزاز چین کے ہونگ یان چھون کے پاس ہے، تاہم چونگ چھنگ شہر میں مسلسل نئی سرنگیں تعمیر ہو رہی ہیں، اس لیے امکان ہے کہ مستقبل میں یہ ریکارڈ بھی چین ہی کے کسی نئے اسٹیشن کے نام ہو جائے۔








