اوٹاوہ ( پاک ترک نیوز) کینیڈا میں ہاتھیوں اور عظیم الجثہ بندروں کو تفریحی مقاصد کے لیے قید میں رکھنے پر پابندی کا اہم قانون غیر معینہ مدت کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے۔ جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے حکومتی عدم دلچسپی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔کینیڈا کے اس مجوزہ قانون کو معروف ماہر ماحولیات اور جانوروں کے تحفظ کی علمبردار ڈاکٹر جین گڈال کے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔ بل ایس 15 کے تحت چڑیا گھروں اور دیگر اداروں کو ہاتھیوں اور عظیم بندروں کی افزائش نسل، درآمد اور برآمد سے روکنے کی تجویز تھی، تاہم تحفظِ نسل، جانوروں کی فلاح اور سائنسی تحقیق کے لیے استثنا رکھا گیا تھا۔اس قانون میں ہاتھیوں کی سواری اور دیگر تفریحی سرگرمیوں میں جانوروں کے استعمال پر پابندی بھی شامل تھی۔یہ بل 2020 میں متعارف کرایا گیا اور دسمبر 2024 میں سینیٹ سے تیسری منظوری بھی حاصل کر چکا تھا، لیکن جنوری 2025 میں پارلیمنٹ کی کارروائی معطل ہونے کے باعث قانون سازی کا عمل ختم ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: صرف مصنوعی ذہانت کے نام پر مصنوعات متعارف نہیں کرائیں گے، سی ای او ایپل
جانوروں کے حقوق کی تنظیم اینیمل جسٹس کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کمیل لیبچک کے مطابق انتخابات کے بعد سے اس قانون کو دوبارہ متعارف کرانے کے لیے کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔رپورٹ کے مطابق ٹورنٹو اور کیلگری کے چڑیا گھروں سمیت جانوروں کے تحفظ کی متعدد تنظیموں نے مارچ میں کینیڈا کی وزیر ماحولیات جولی ڈابروسین کو خط لکھ کر قانون سازی دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم حکومت نے فی الحال اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔کینیڈا میں اس وقت تقریباً 23 ہاتھی موجود ہونے کا اندازہ ہے، جن میں سے بیشتر اونٹاریو کے افریکن لائن سفاری پارک میں رکھے گئے ہیں۔جانوروں کے حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ قانون پر برسوں کام ہونے کے باوجود اسے نافذ نہ کرنا ایک اہم موقع ضائع کرنے کے مترادف ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسی قانون سازی کے لیے بل دوبارہ پارلیمنٹ میں پیش کرنا ہوگا۔







