از: سہیل شہریار
پاکستان نےافغانستان سے جڑی دہشتگردانہ کاروائیوں کےپاکستان کے بعد اب خطے اور دنیا کے دیگر ملکوں تک پھیل جانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئےعالمی برادری سے اس کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔تازہ واقعات میں وائٹ ہاؤس کے قریب افغان شہری رحمان اللہ کی فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والے دو میں سے ایک خاتون نیشنل گارڈ ہلاک ہو چکی ہے جبکہ دوسرے کی حالت تا حال تشویش ناک ہے۔ اسی طرح دو روز قبل افغانستان کے اندر سے ہونے والی ایک دہشتگردی کی کاروائی میں تاجکستان کے صوبہ ختلان میں تین چینی تعمیراتی اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
افغان شہری کے امریکہ میں نیشنل گارڈز پر حملے کے بعد صدر ٹرمپ نے جہاں تمام افغان شہریوں کی ویزا درخواستوں پر کاروائی کو غیر معینہ مدت تک کے لئے معطل کر دیا ہے ساتھ ہی تیسری دنیا کے تمام ملکوں سے امریکہ ہجرت کے عمل کوبھی مکمل طور پر بند کرتے ہوئے 2021سے اب تک 19ملکوں خصوصاً افغانستان سے تعلق رکھنے والے گرین کارڈ ہولڈرز کی مکمل جانچ کے بعد امریکہ کے لئے غیر منفعت بخش لوگوں کی ملک بدری کا اعلان کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایسے تمام غیر شہریوں کے وفاقی فوائد ختم کریں گے، ایسے تارکینِ وطن کی شہریت منسوخ کریں گے جو امریکا کے لیے خطرہ سمجھے جائیں، اور ان تمام افراد کو ملک بدر کریں گے جو ’’مغربی تہذیب سے مطابقت نہیں رکھتے‘‘۔
دوسری جانب تاجکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے سرحدی علاقے میں افغانستان کی سرزمین سے کیے جانے والے ایک ڈرون حملے میں ایک چینی کمپنی کے تین ملازمین ہلاک ہوئے ہیں۔
جمعرات کو ایک بیان میں تاجکستان کی وزارتِ خارجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈرون حملہ اس کے صوبے ختلان کے سرحدی علاقے میں ہوا ہے۔اور اس حملے میں ایک ڈرون کے ذریعے گرینیڈز اور اسلحہ استعمال کیا گیا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تاجکستان افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقوں میں سکیورٹی ور استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اس کے باوجودافغانستان کی سرزمین پر موجود جرائم پیشہ گروہوں کی تباہ کُن کارروائیاں جاری ہیں۔
جہاںافغانستان سے جنم لینے والی دہشتگردی کی کاروائیوںپرپاکستان مسلسل تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے وہیں پاکستان اور یورپی یونین نے اپنے مشاورتی اجلاس کے مشترکہ اعلامیہ میں اکتوبر 2025 میں پاک افغان سرحدی کشیدگی کے تناظر میں علاقائی امن اور بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیتے ہوئے افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔اعلامیہ میں افغانستان کی بگڑتی معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ افغانستان میں امن، استحکام اور ایک جامع سیاسی عمل ہی خطے کے مفاد میں ہے۔
اسی حوالے سے پاکستان کی مسلح افواج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ افغان رجیم نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کیلئے ایک خطرہ بن چکی ہے-
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں 2021 کے بعد ریاست اورحکومت کا قیام ہونا تھا جو ممکن نہ ہوسکا۔ طالبان رجیم نے ملک میں غیر ریاستی عناصرپالے ہوئے ہیں جو خطے کےمختلف ممالک کیلئے خطرہ ہیں۔
دوحہ مذاکرات میں افغان طالبان نے بین الاقوامی برادری سے اپنی سرزمین دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہونے کا وعدہ کیا تھا مگر اس پراب تک عمل نہیں ہوا۔پاکستان کا مطالبہ واضح ہے کہ افغان طالبان کا طرز عمل ایک ریاست کی طرح ہونا چاہئے۔
افغان طالبان رجیم افغانیوں کی نمائندہ نہیں ہے۔ کیونکہ یہ نہ تو عوام کی منتخب کردہ ہے اور نہ ہی تمام قومیتوں کی نمائندگی کرتی ہے۔اس رجیم میں خواتین پرمشتمل افغانستان کی 50 فیصدآبادی کی نمائندگی کا کوئی وجود نہیں۔انہوں نےکہا کہ ہمارا افغانیوں کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں۔ بلکہ ہمارا مسئلہ افغان طالبان رجیم کے ساتھ ہے۔ جبکہ پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت کی بندش کا مسئلہ ہماری سیکیورٹی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے جڑا ہے۔












