تل ابیب ( پاک ترک نیوز) اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سےکل ہونے والی ملاقات سے قبل سکیورٹی کابینہ (کابینٹ) کے ارکان کو آگاہ کیا ہے کہ وہ غزہ، جنوبی لبنان اور شامی علاقوں سے بڑے پیمانے پر انخلا کے کسی بھی امریکی مطالبے کو مسترد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اسرائیلیمیڈیا کی رپورٹسکے مطابق کابینہ کے اجلاس میں نیتن یاہو نے کہا کہ امریکا نے مطالبات کی ایک فہرست ارسال کی ہے۔ جس میں غزہ، شام اور لبنان کے محاذوں سے وسیع پیمانے پر انخلا شامل ہے۔ان کا کہنا تھا "میں اس کی مخالفت کروں گا اور انہیں صاف جواب دوں گا ۔نہیں”۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے۔ جبکہ خطے کی سکیورٹی صورتحال پر دونوں ممالک کے درمیان مشاورت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران ایران کے جوہری پروگرام پر مسلسل نگرانی برقرار رکھنے کے لیے زور دیں گے۔ اگرچہ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اس حوالے سے کوئی نئی انٹیلی جنس معلومات موجود نہیں کہ ایران دوبارہجوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کر نے کی کوشش کر رہا ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں اسرائیلی اور امریکی انٹیلی جنس ادارے قریبی تعاون سے کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ ایران سے نمٹنے کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے مؤقف پر تبادلہ خیال کے منتظر ہیں۔ تاہم اس معاملے میں حتمی فیصلہ امریکی صدر ہی کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: شام اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی معاہدے کا خواہاں، صدر احمد الشرع کا انکشاف
نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو کئی سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ تہران اپنی صلاحیتیں دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ایران کے جوہری پروگرام کو مؤخر ضرور کیا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اسے دوبارہ بحال کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ مسلسل نگرانی جاری رکھی جائے تاکہ ایسا نہ ہو سکے۔












