لاہور( پاک ترک نیوز) سائنس دانوں نے دانتوں میں لگنے والے کیڑے کو بغیر ڈرل، انجیکشن اور بے ہوشی کے روکنے کا ایک آسان، محفوظ اور کم خرچ طریقہ دریافت کر لیا ہے۔
امریکا کی ایک جامعہ کی سربراہی میں ہونے والی نئی تحقیق کے مطابق چاندی اور فلورائیڈ پر مشتمل ایک خاص دوا دانت کے متاثرہ حصے پر صرف چند سیکنڈ میں لگائی جاتی ہے، جو کیڑے کو مزید پھیلنے سے روک سکتی ہے۔
یہ تحقیق ایک معروف طبی جریدے میں شائع ہوئی، جس میں چھ سال سے کم عمر 830 بچوں کو شامل کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ہر چھ ماہ بعد دوا لگانے سے نصف سے زیادہ متاثرہ دودھ کے دانتوں میں کیڑا بڑھنے سے رک گیا۔
ماہرین کے مطابق روایتی علاج میں خراب حصہ نکال کر فلنگ کی جاتی ہے، جبکہ اس نئے طریقے میں دانت کو چھیڑے بغیر صرف دوا لگائی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موٹاپا کم کرنے والی ادویات کا اہم راز بے نقاب
تحقیق کی سربراہ ماہرِ دندان سازی کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ ایک سال کی عمر کے بچوں سمیت کم عمر بچوں کے لیے بھی محفوظ اور مؤثر ثابت ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ علاج خاص طور پر کم عمر بچوں، بزرگ افراد، جسمانی یا ذہنی معذوری کے شکار افراد، دانتوں کے علاج سے خوفزدہ مریضوں اور ان لوگوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے جنہیں دانتوں کے معیاری علاج کی سہولت آسانی سے دستیاب نہیں۔
البتہ اس علاج کا ایک نقصان بھی سامنے آیا ہے، جس کے مطابق دوا دانت کے متاثرہ حصے کو مستقل طور پر سیاہ کر دیتی ہے۔










