لاہور( پاک ترک نیوز) آم کے جوس کے نام پر آخر عوام کو کیا پلایا جا رہا ہے؟ کیا پیکٹوں میں بند مشروب واقعی آم کا رس ہے یا صرف مصنوعی ذائقوں اور کیمیکلز کا مرکب؟قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں سامنے آنے والے انکشافات نے کئی سوالات کھڑے کر دیئے ۔
گرمی کی شدت ہو، اسکول سے واپسی یا افطار کا دسترخوان، جوس ہر گھر کی ضرورت بن چکا ہے۔ لیکن اگر یہی جوس پھل کے بجائے کیمیکل، مصنوعی رنگ اور خوشبوؤں سے تیار کیا جا رہا ہو تو انسانی جانوں کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں سامنے آنے والے انکشافات نے ملک بھر کے کروڑوں صارفین کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔
کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ متعدد جوس کمپنیاں آم کے قدرتی گودے کے بجائے مصنوعی فلیورز اور کیمیکل استعمال کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق مصنوعی رنگ، فلیورز اور بعض کیمیکل بچوں میں الرجی، معدے کی خرابی، موٹاپا، ذیابیطس کے خطرات اور جگر کے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ مسلسل استعمال سے قوتِ مدافعت بھی متاثر ہو سکتی ہے جبکہ بعض مصنوعی اجزاء طویل مدت میں صحت کے مزید سنگین مسائل کا سبب بن سکتے ہیں۔
قانون کے مطابق کسی بھی فروٹ جوس میں کم از کم پچیس فیصد اصل پھل شامل ہونا ضروری ہے، لیکن قائمہ کمیٹی کے مطابق بعض کمپنیاں اس شرط کو نظر انداز کر کے منافع خوری میں مصروف ہیں۔
صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے قائمہ کمیٹی نے فوڈ اتھارٹیز اور متعلقہ اداروں کو ملک گیر تحقیقات، لیبارٹری ٹیسٹ اور سخت نگرانی کا حکم دے دیا ۔
جوس کے نام پر فروخت ہونے والی بوتلوں اور پیکٹس میں آخر کتنا پھل اور کتنا کیمیکل شامل ہے؟ یہ سوال اب صرف صارفین ہی نہیں بلکہ حکومتی ادارے بھی پوچھ رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں تحقیقات کے نتائج اس بڑے اسکینڈل کے مزید راز فاش کر سکتے ہیں۔











