لاہور (پاک ترک نیوز )پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن ارکان کو بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر شدید احتجاج کیا گیا۔ اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر سپیکر ڈائس کے سامنے پہنچ گئے اور ہاتھوں میں بینرز اٹھا کر حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔
اپوزیشن ارکان نے ’’رہا کرو، رہا کرو، خان کو رہا کرو‘‘ اور ’’لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی‘‘ کے نعرے لگائے۔
احتجاج کے بعد اپوزیشن ارکان نے ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے باہر نکل گئے۔
اس موقع پر اپوزیشن رکن معین ریاض قریشی نے کہا کہ ججز کو اپنے فیصلوں پر کھڑا ہونا چاہیے، اگر فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ہونا تو پھر عدالتوں کا کیا فائدہ ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملک کا نظام تباہی کی طرف جا رہا ہے، امن و امان کی صورتحال ابتر ہے اور کوئی ادارہ بھی بہتر طریقے سے کام نہیں کر رہا۔
معین ریاض قریشی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو دھکا دیا جا رہا ہے تاکہ وہ اسمبلیوں سے استعفے دے، ایک جماعت اور اس کی قیادت کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے، ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ اسمبلیوں سے استعفے دے دیں۔
انہوں نے کہا کہ جیل میں قید سیاسی قیادت کے ساتھ بھی انصاف نہیں ہو رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، عالیہ حمزہ اور میاں محمود الرشید جیل میں ناحق قید ہیں۔
معین ریاض قریشی نے مزید کہا کہ ’’ہم جمہوریت کا فراڈ بے نقاب کرکے اسمبلیوں سے استعفیٰ دے دیں گے۔‘‘
انہوں نے پنجاب اسمبلی میں مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت اور علاج کے معاملے پر کارکنان کو بات کرنے کی اجازت دی جائے، بصورت دیگر اجلاس کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔
معین ریاض قریشی نے واضح کیا کہ ’’بانی پی ٹی آئی کا علاج ہماری ریڈ لائن ہے۔‘‘
دوسری جانب سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل کرنے کے معاملے پر حکومت کی جانب سے ریویو پٹیشن دائر کی گئی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ احکامات ایک قیدی کے لیے ہوسکتے ہیں تو یہی اصول یاسمین راشد اور میاں محمود الرشید سمیت دیگر قیدیوں کے لیے بھی لاگو ہوسکتا ہے۔
سپیکر نے اپوزیشن ارکان سے کہا کہ ’’آپ لوگ انہیں قیدی کہتے ہیں تو حکومت انہیں نو مئی کے قیدی کہتی ہے۔‘‘












