اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان اور طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان کے درمیان اختلافات کو حل کرنے کے لیے ممکنہ روسی ثالثی کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ اس تناظر میںپپاکستان کا مؤقف ہے کہ کامیاب مذاکرات کے لیے کابل کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے کاعزم اور قابل تصدیق اقدامات کا ہونا ضروری ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ حالیہ دنوں میں روسی وزیر داخلہ کی پاکستان آمد کے باوجود طالبان سے مزاکرات کے لئےروس کی جانب سے کوئی باضابطہ پیشکش سامنے نہیں آئی۔البتہ پاکستان ایسی بات چیت کے لیے ہمہ وقت تیار ہے جس کے ٹھوس نتائج برآمد ہوں۔
صورتحال یہ ہے کہ اس ماہ کے اوائل میں ماسکو فارمیٹ کے تحت ہونے والی علاقائی مشاورت میںدونوں فریقوںکے نمائندے روس میں موجود تھے۔تاہم انکے درمیان سرد مہری کے باعث اجلاس کا کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہو سکا۔ کیونکہ طالبان کو افغانستان میں دہشت گردی کے حوالے سے کسی بھی قسم کے ذکر کو شامل کرنے اور پاکستان کو اسے شامل نہ کرنے پر اعتراض تھا۔ تب روس نے پیشکش کی تھی کہ اگر دونوں فریقین کو ضرورت ہو تو وہ اس تعطل کو ختم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ دنیا کے کچھ انتہائی خطرناک دہشت گرد گروہ افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ لہٰذا، کابل انتظامیہ کے انکاری بیانات میں کوئی وزن نہیں ہے۔ اب تک قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور چین جیسےدوست ممالک نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کی کوششیں کی ہیں۔ جنہیں مختلف سطحوں پر کامیابی بھی ملی ہے۔ مگر روس واحد ملک ہے جو طالبان حکومت کو تسلیم کرتا ہے۔ اس لئے پاکستان اور افغانستان، ماسکو کو شامل کر کے امن عمل کو ایک اور موقع دینے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی وزیرِ دفاع کی اماراتی صدر سے ملاقات، علاقائی سلامتی اور مشترکہ تعاون پر تبادلۂ خیال
پاکستان اور افغانستان کے درمیان مشترک سرحد کے ساتھ مذہبی ، ثقافتی اور لسانی مشترکات بھی موجود ہیں۔ اور 40لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کے لئے دی گئی قربانیاں بھی موجود ہیں۔ایسے میںپاکستان امن کا خواہاںتو ہے۔نگر وہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے کابل کی جانب سے اعتماد سازی کے ٹھوس اور نمایاں اقدامات چاہتا ہے۔ جن میں سرحد پار دہشت گردی کا خاتمہ شامل ہے۔جبکہ کابل کے یہ دعوے کہ وہ کسی پرتشدد گروہ کی میزبانی نہیں کر رہا۔ بے بنیاد ہیںاور کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ چنانچہ ایسے گروہوں کے خلاف عملی کارروائی کی ضرورت ہے۔ نہ کہ محض کھوکھلے تردیدی بیانات کی۔ دنیا بھر خصوصاً خطے کے ممالک کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ آج پاکستان ہی افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں سے نبرد آزما ہے۔ کل یہی پرتشدد عناصر، جو اس ملک میں موجود ہیں، خطے اور دنیا بھرکے دیگر ممالک کو بھی غیر مستحکم کر سکتے ہیں۔












