واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکی کمپنیوں میں چینی مصنوعی ذہانت ماڈلز کا استعمال تیزی سے بڑھنے لگا ہے، کیونکہ یہ ماڈلز جدید امریکی اے آئی سسٹمز کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم لاگت پر دستیاب ہیں، جبکہ کارکردگی کے لحاظ سے بھی ان کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اوپن اے آئی ،انتھروپک کے جدید اے آئی ماڈلز کے استعمال کی لاگت میں اضافے کے بعد امریکی کاروباری ادارے سستے متبادل کی تلاش میں ہیں، جس کے باعث چینی کمپنیوں کے تیار کردہ ماڈلز کو تیزی سے اپنایا جا رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ڈویلپر پلیٹ فارم اوپن روٹر پر امریکی کمپنیوں کی جانب سے استعمال کیے جانے والے اے آئی ٹوکنز میں چینی ماڈلز کا حصہ فروری 2026 سے مسلسل 30 فیصد سے زائد رہا، جبکہ بعض ہفتوں میں یہ شرح 46 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس سے قبل گزشتہ بارہ ماہ کے دوران یہ اوسط صرف 11 فیصد تھی
ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی اوپن سورس اور اوپن ویٹ اے آئی ماڈلز امریکی کمپنیوں کے لیے اس لیے بھی پرکشش ہیں کیونکہ ان کی قیمت امریکی ماڈلز کے مقابلے میں 60 سے 90 فیصد تک کم ہے، جبکہ بہت سے عام اور درمیانے درجے کے کاموں میں ان کی کارکردگی بھی انتہائی مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی بحریہ کے صرف چار طیارہ بردار جنگی جہاز مختلف مقامات پر تعینات
امریکی تھنک ٹینک سے وابستہ ماہر کائل چان کے مطابق پہلے کمپنیاں صرف اے آئی اپنانے پر توجہ دیتی تھیں، لیکن اب بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث وہ کم لاگت والے ماڈلز کو ترجیح دے رہی ہیں
ادھر امریکی حکومت اپنی جدید ترین اے آئی ٹیکنالوجی کے برآمدی ضوابط مزید سخت کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ حساس ٹیکنالوجی بیرونِ ملک منتقل نہ ہو، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکی کمپنیوں کے ماڈلز کی قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں تو چینی اے آئی پلیٹ فارمز عالمی منڈی میں مزید مضبوط مقام حاصل کر سکتے ہیں۔












