واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کا کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا حماس کو انعام دینے کے مترادف ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ حماس کو انعام دینا چاہیے۔
برطانوی وزیراعظم کی جانب سے فلسطینی ریاست کو مشروط طور پر تسلیم کرنے کے اعلان پر امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے فلسطینی ریاست کے معاملے پر اسٹارمر سے بات نہیں کی ہماری ملاقات خوشگوار تھی لیکن ریاستِ فلسطین پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔
امریکی صدر نے کہا کہ امریکا اس کیمپ میں نہیں جس نے فلسطینی ریاست تسلیم کی ہو ہم نے اسرائیل سے براہِ راست بات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں اس خوراک کے مرکز کے معاملے پر اسرائیلی حکومت سے بات کروں گا ہماری کوشش ہے کہ خوراک مناسب اور منصفانہ طریقے سے تقسیم ہو۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ ہم اقوام متحدہ کی اس کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے ہم نے عالمی کانفرنس کو غیر مفید قرار دیا ہے ہم نے دنیا کو خبردار کیا کہ یہ خود ساختہ ریاستی تسلیم حماس کا انعام ہوگا امریکا نے واضح کیا کہ ہم ایک طرفہ فلسطینی ریاست کی تسلیم کی حمایت نہیں کریں گے۔
برطانوی وزیراعظم کیئراسٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ ستمبر میں فلسطین کو ریاست تسلیم کرے گا اگر اسرائیل نے غزہ کی صورتحال نہ بدلی تو برطانیہ فلسطین کو ریاست تسلیم کرے گا۔
کیئر اسٹارمر نے کابینہ کو فلسطین کی ریاستی حیثیت دینے سے آگاہ کر دیا ہے۔ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے پہلے برطانیہ اس متعلق فیصلہ کر سکتا ہے۔
برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل کو غزہ میں جنگ بندی اور 2 ریاستی حل کی ضمانت دینا ہو گی، اسرائیل کو غرب اردن میں الحاق نہ کرنے کی بھی ضمانت دینا ہو گی۔
قبل ازیں برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے جمعہ کو کہا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کی دیرپا سلامتی کے وسیع تر منصوبے کا حصہ ہونا چاہیے۔
برطانوی اخبار انڈیپنڈنٹ کے رپورٹ کیا کہ وزیر اعظم نے اصرار کیا کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے بارے میں ’’غیر متزلزل‘‘ ہیں، تاہم انھوں نے کہا کہ وہ تب تسلیم کریں گے جب اس سے ’’مصیبت کے شکار لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ افادیت یقینی ہو۔‘‘












