لاہور( پاک ترک نیوز) وہ ساعت کتنی مبارک ہو گی جب مکہ کی سرزمین پر وہ نور جلوہ گر ہوا ،جس نے جس نے اندھیروں میں بھٹکتی انسانیت کو روشنی عطا کی۔وہ ہستی ﷺ تشریف لائیں۔
جنہیں اللہ رب العزت نے رحمت للعالمین بنا کر بھیجا۔جن کی آمد سے انسانیت کو نیا راستہ ملا جن کی تعلیمات نے ظلم کے مقابلے میں عدل، نفرت کے مقابلے میں محبت اور جہالت کے مقابلے میں علم کا چراغ روشن کیا۔
ایک ایسا دن جس کا ذکر آتے ہی دل محبت سے بھر جاتا ہے ،ایک ایسا دن جب عر ب کی سرزمین سے وہ نور طلوع ہوا، جس نے پوری دنیا کو انسانیت، رحم، عدل اور محبت کا راستہ دکھایا۔ جی ہاں ربیع الاول کا وہ مبارک دن آ پہنچا ہے جس دن ہمارے پیارے نبی کریم حضرت محمد کی ولادت باسعات ہوئی
یہ بھی پڑھیں: سرور کونین حضرت محمدﷺ کی ولادت باسعادت کے جشن کی تیاریاں
رحمت اللعالمین کی آمد کی خوشی میں پورے دنیا کے مسلمان خوشی سے نہال ہیں ، پاکستان میں بھی جشن عید میلاد النبی مذہبی جوش و خروش سے منایا جا رہا ہےلاہور،کراچی ،پشاور ،کوئٹہ سمیت چھوٹے بڑے شہروں میں جلوس نکالے جا رہے ہیں ۔ عاشقانِ رسول درود و سلام اور نعت خوانی کے ذریعے اپنی عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں۔ پاکستان کی فضائیں درود و سلام کی صداؤں سے گونج رہی ہیں ِمساجد میں خصوصی محافل ہو رہی ہیں ،لاکھوں عاشقانِ رسول ﷺ اپنے اپنے انداز میں عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں
پورے پاکستان کی شاہراہیں ،مساجد ،بازار ،گلیاں ،محلے سبز جھنڈیوں، برقی قمقموں اور خوبصورت سجاوٹ سے جگمگا رہے ہیں۔حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو قرآن مجید نے رحمت للعالمین قرار دیا۔آپ ﷺ نے انسانوں کو توحید کا پیغام دیا کمزوروں کے حقوق کی حفاظت کی، یتیموں، مسکینوں اور ضرورت مندوں سے حسنِ سلوک کی تعلیم دی، اور معاشرے میں عدل، مساوات اور بھائی چارے کو فروغ دیا۔
یہی تو سیرتِ مصطفیٰ ﷺ ہے…
زبان پر درود…
دل میں محبت…
اور کردار میں سنت۔
یہی وہ پیغام ہے جو 12 ربیع الاول ہمیں یاد دلاتا ہے۔
کہ نبی کریم ﷺ سے محبت صرف دعویٰ نہیں…
بلکہ آپ ﷺ کی اطاعت اور آپ ﷺ کی سنت سے وابستگی کا نام بھی ہے۔
آج کے دن کا سب سے خوبصورت پیغام یہ ہے کہ ہم اپنے نبی کریم کی محبت کو اپنی زندگی میں بھی دکھائیں۔ کسی بھوکے کو کھانا کھلائیں۔
کسی غریب کی مدد کریں۔والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کریں۔پڑوسی کا خیال رکھیں۔معاف کرنا سیکھیں۔
جھوٹ، دھوکے اور ظلم سے بچیں۔اور اپنی زندگی میں سنت رسول کو جگہ دیں۔
اس مبارک دن ایک سوال خود سے ضرور کیجیے۔ہم اپنے نبی کریم ﷺ سے کتنی محبت کرتے ہیں؟
اتنی کہ صرف ایک دن چراغاں کریں؟،۔یا اتنی کہ پورا سال آپ ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں؟
۔۔کیونکہ محبت صرف زبان سے کہنے کا نام نہیں
محبت تو کردار میں نظر آتی ہے۔اور اگر 12 ربیع الاول کے موقع پر ہماری زبان پر درود۔دل میں محبت اور ہمارے عمل میں سیرت مصطفیٰ آ جائے تو شاید یہی اس بابرکت دن کی سب سے خوبصورت خوشی ہوگی۔







