اسلام آباد(پاک ترک نیوز ) چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت اور مسلم لیگ ن پر واضح کردیا کہ پیپلزپارٹی کے تحفظات دور نہ کیے گئے تو حکومتی اتحاد کے ساتھ تعاون جاری رکھنا مشکل ہوگا۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کو نشانہ بنایا گیا، اگر مسلم لیگ ن کو ایسا متنازع انتخاب ہی درکار تھا تو انہیں مبارک ہو۔ حکومت کی جانب سے رابطہ کیا گیا تو بات چیت ضرور ہوگی، تاہم انصاف ملنے تک تعاون نہیں کیا جاسکتا۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے انتخابات حقِ ملکیت اور حقِ حکمرانی کے منشور پر لڑے۔ اتحادی جماعت کے کارکنوں کی لاشیں اٹھانی پڑیں اور دوسری طرف حکومتی بینچوں پر بیٹھنا ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر جیسے حساس خطے میں انتخابی عمل پر سوالات اٹھنا افسوسناک ہے۔ پیپلزپارٹی نے پہلے ہی سیکیورٹی خدشات سے آگاہ کیا تھا، مظفرآباد میں امیدوار پر حملہ بھی ہوا، اس کے باوجود ہمارے اعتراضات پر سنجیدگی سے توجہ نہیں دی گئی۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے آزاد کشمیر انتخابات سے متعلق پیپلزپارٹی یا پارلیمانی کمیٹی سے رابطہ کرنے کی بھی کوشش نہیں کی۔ اگر تحفظات کا ازالہ نہیں کیا جاتا تو پیپلزپارٹی حکومت کے ساتھ تعاون کے حق میں نہیں، البتہ قومی نوعیت کے معاملات پر تعاون کیا جاسکتا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ متنازع مینڈیٹ رکھنے والی حکومت کشمیر کے مسائل مؤثر انداز میں حل نہیں کرسکتی، مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ وہاں عوامی مینڈیٹ رکھنے والی حکومت قائم ہو۔
نئے صوبوں کے معاملے پر بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلزپارٹی عوام کی رائے کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ کسی اسمبلی کی جانب سے مخالفت نہ ہو تو اعتراض کیسے کیا جاسکتا ہے؟ عوام نئے صوبوں کے حق میں جو فیصلہ کریں گے، پیپلزپارٹی اس کا ساتھ دے گی، تاہم زبردستی کے کسی فیصلے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مجوزہ آئینی ترمیم کا کوئی مخصوص نکتہ ابھی سامنے نہیں آیا، جب کوئی تجویز سامنے آئے گی تو اس پر غور کیا جائے گا۔ جن معاملات پر اتفاق رائے موجود ہو، انہیں اتفاق رائے سے آگے بڑھانا چاہیے، جبکہ اختلافی امور پر سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں عمران خان کا علاج ہو اور وہ صحت یاب ہوں۔
بلاول بھٹو نے بتایا کہ اپوزیشن جماعتوں سے رابطہ ہوا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر معاملات حل کریں۔ ان کے مطابق اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس سے بھی ملاقات ہوئی ہے۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ پارلیمان کو عزت دی ہے، اپوزیشن جماعتوں کو پارلیمانی کمیٹیوں میں واپس آنا چاہیے کیونکہ قائمہ کمیٹیوں کو فعال کیے بغیر پارلیمان کو مؤثر نہیں بنایا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا پارلیمانی کمیٹیوں میں کردار انتہائی اہم ہے۔ انتخابی عمل میں بہتری کے لیے اپوزیشن جماعتیں کردار ادا کریں اور اگر انتخابی نظام میں اصلاحات مطلوب ہیں تو سیاسی جماعتوں کو مل کر اس پر کام کرنا چاہیے












