بیجنگ (پاک ترک نیوز)جنگ کا میدان بدل رہا ہے۔۔۔ اب دشمن کے ڈرونز کو گرانے کے لیے میزائل داغنے کی ضرورت نہیں، بلکہ روشنی کی ایک طاقتور شعاع ہی انہیں آگ کے گولے میں تبدیل کرسکتی ہے! چین نے جدید لیزر ہتھیار کا کامیاب تجربہ کرکے دفاعی ٹیکنالوجی کی دنیا میں نئی ہلچل مچا دی ہے۔ صحرائے گوبی میں مختلف سمتوں سے آنے والے خودکش ڈرونز کو فضا ہی میں تباہ کردیا گیا۔ آخر یہ لیزر ہتھیار کیسے کام کرتا ہے؟ اور کیا مستقبل کی جنگوں میں میزائلوں کی جگہ لیزر لے لیں گے؟ دیکھیے یہ رپورٹ۔
تصور کریں۔۔۔ آسمان پر کئی خودکش ڈرونز ایک ساتھ حملہ آور ہوں، لیکن انہیں روکنے کے لیے نہ کوئی میزائل فائر ہو، نہ توپ چلے، بلکہ روشنی کی ایک طاقتور شعاع انہیں لمحوں میں جلا کر راکھ کردے!
یہ کوئی سائنس فکشن فلم نہیں، بلکہ چین کے جدید دفاعی نظام کا تجربہ ہے۔
چین نے صحرائے گوبی میں ’’گوانگ جیان‘‘ سیریز کے جدید لیزر ہتھیار کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ چینی دفاعی ادارے اے وی آئی سی کے تیار کردہ اس نظام نے مختلف سمتوں سے آنے والے کم بلندی پر پرواز کرنے والے متعدد ڈرونز کو نشانہ بنایا۔
چینی اخبار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیلی کے مطابق لیزر شعاعوں کی زد میں آنے والے ڈرونز میں آگ بھڑک اٹھی، وہ کنٹرول کھو بیٹھے اور اپنے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی زمین پر جا گرے۔
لیکن اس ہتھیار کی اصل طاقت کیا ہے؟لیزر شعاع تقریباً تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہے، یعنی روشنی کی رفتار سے! اس لیے ہدف تک پہنچنے میں تقریباً کوئی وقت نہیں لگتا۔ یہی نہیں، روایتی میزائلوں کے مقابلے میں لیزر سے ہر حملے کی لاگت بھی نسبتاً بہت کم ہوسکتی ہے۔
تاہم ڈرون کو تباہ کرنا اتنا آسان بھی نہیں۔ اس کے لیے ریڈار، فائر کنٹرول سسٹم اور انتہائی درست نشانے کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ لیزر شعاع مسلسل ایک ہی مقام پر مرکوز رہے۔
چین کے سائنس دانوں نے اس نظام کو زیادہ دیر تک فعال رکھنے کے لیے خصوصی کولنگ ٹیکنالوجی بھی تیار کی ہے۔ پیرافین پر مبنی جدید مواد حرارت جذب کرتا ہے، جس کی مدد سے لیزر ہتھیار کو مسلسل 30 منٹ تک چلانے اور اس کا درجہ حرارت مستحکم رکھنے میں کامیابی حاصل کی گئی۔
اختتامی حصہ:
ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی چھوٹے ڈرونز اور خودکش فضائی حملوں کے خلاف دفاع کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : یومِ شہدائے جموں: سحر کامران کی قومی اسمبلی میں قرارداد جمع
یعنی مستقبل کی جنگ میں ممکن ہے ایک طرف اربوں روپے کے میزائل ہوں، جبکہ دوسری طرف روشنی کی ایک شعاع دشمن کے ڈرونز کا راستہ روک رہی ہو۔
اب سوال یہ ہے۔۔۔ کیا آنے والے وقت میں لیزر ہتھیار فضائی دفاع کا سب سے مؤثر ہتھیار بن جائیں گے؟ یا ڈرون ٹیکنالوجی اس کا بھی توڑ نکال لے گی؟
یہی ہے مستقبل کی جنگ۔۔۔ جہاں گولیاں نہیں، روشنی بھی تباہی پھیلا سکتی ہے!












