اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان میں چین کے تیار کردہ ایس ایل سی 14 میزائل ڈیفنس ریڈار کی ممکنہ تنصیب سے متعلق سیٹلائٹ تصاویر سامنے آنے کے بعد خطے کے دفاعی توازن پر بحث شروع ہوگئی ہے۔
دفاعی ویب سائٹ ڈیفنس سکیورٹی ایشیا کے مطابق اکتوبر کے آخری ہفتے کی تصاویر میں پاکستان کے ایک خشک اور بنجر علاقے میں ایسی تنصیبات دکھائی دی ہیں جو چینی ایس ایل سی 14 ریڈار سے مشابہت رکھتی ہیں۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ پیش رفت پاکستان کے چین سے ایچ کیو 19 میزائل دفاعی نظام حاصل کرنے کی ممکنہ تیاریوں کا حصہ ہو سکتی ہے۔ تاہم صرف تصاویر کی بنیاد پر ریڈار کی شناخت، اس کی عملی حالت یا میزائل انٹرسیپٹرز کی موجودگی کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔
ایس ایل سی 14 ایکس بینڈ ٹیکنالوجی پر مبنی جدید ریڈار ہے، جسے بیلسٹک میزائلوں کی نشاندہی، نگرانی اور ان کی درست ٹریکنگ کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں اس کی ممکنہ ڈیٹیکشن رینج تقریباً 2 ہزار کلومیٹر بتائی گئی ہے، تاہم اتنی دور سے ہدف کی نشاندہی کرنا اور اسے میزائل کے ذریعے تباہ کرنا دو مختلف صلاحیتیں ہیں۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایچ کیو 19 میزائل ڈیفنس سسٹم کی خریداری کا کوئی حتمی معاہدہ، میزائلوں کی ترسیل یا آپریشنل تعیناتی تاحال مصدقہ نہیں۔ جون 2025 میں حکومت پاکستان کی جانب سے چین کی طرف سے جے 35 لڑاکا طیاروں، کے جے 500 نگرانی کے طیاروں اور ایچ کیو 19 نظام کی پیشکش کا ذکر کیا گیا تھا، تاہم اس اعلان سے خریداری مکمل ہونے کی تصدیق نہیں ہوتی۔دفاعی تجزیے کے مطابق اگر پاکستان مستقبل میں ریڈار، کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام اور میزائل انٹرسیپٹرز کو ایک مربوط دفاعی نیٹ ورک میں شامل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو اسے بیلسٹک میزائل حملوں کے خلاف اہم تنصیبات کے تحفظ میں مدد مل سکتی ہے۔ اس سے بھارت کی میزائل حملوں کی منصوبہ بندی میں بھی نئے عوامل شامل ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافے کا بوجھ عوام پر نہیں ڈالا،وزیراعظم
رپورٹ میں ایچ کیو 19 کا موازنہ امریکی تھاڈ میزائل دفاعی نظام سے بھی کیا گیا ہے، تاہم دونوں نظاموں کی کارکردگی، عملی صلاحیت اور جنگی حالات میں مؤثریت کو یکساں قرار دینے کے لیے مستند شواہد دستیاب نہیں۔ماہرین کے مطابق کسی بھی میزائل دفاعی نظام کی کامیابی صرف ریڈار یا لانچرز کی موجودگی پر منحصر نہیں ہوتی، بلکہ تربیت یافتہ عملے، جدید مواصلاتی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول، میزائلوں کی دستیابی اور مسلسل تکنیکی معاونت بھی ضروری ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایس ایل سی 14 ریڈار کی ممکنہ موجودگی ایک اہم دفاعی پیش رفت ہو سکتی ہے، تاہم اس کی حتمی شناخت، ایچ کیو 19 سے تعلق اور آپریشنل حیثیت کی سرکاری تصدیق سامنے آنا ابھی باقی ہے۔












