بیجنگ (پاک ترک نیوز)چین کے سرکاری میڈیا نے اپنے جدید ترین جے 20 اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں کی اپ گریڈیشن سے متعلق اہم تفصیلات جاری کردی ہیں۔ نئی پیش رفت میں انجن کی طاقت، ایروڈائنامک ڈیزائن، جدید سینسرز اور بغیر پائلٹ طیاروں کے ساتھ مشترکہ آپریشنز کی صلاحیت شامل ہے۔
چینی میڈیا کے مطابق جے 20 کا مقامی طور پر تیار کردہ انجن اس طیارے کی صلاحیتوں میں اہم اضافہ ہے۔ اس انجن کی بدولت طیارہ زیادہ رفتار حاصل کرنے، سپرسونک رفتار برقرار رکھنے اور انتہائی دباؤ کے دوران پیچیدہ فضائی کرتب انجام دینے کے قابل ہوسکتا ہے۔
اپ گریڈ شدہ سنگل سیٹ جے 20 اے میں کاک پٹ کے ڈیزائن اور سینسر سسٹم میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق کاک پٹ کے پیچھے ابھرا ہوا حصہ طیارے کی فضائی کارکردگی اور رفتار بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے، جبکہ ناک کے نیچے نصب سینسرز میں لینسز کی تعداد چھ سے بڑھا کر آٹھ کردی گئی ہے، جس سے نگرانی اور ہدف کی شناخت کی صلاحیت میں بہتری متوقع ہے۔
دوسری جانب دو نشستوں والے جے 20 ایس کو مستقبل کی فضائی جنگ کے لیے ایک نئی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس میں اگلی نشست پر موجود پائلٹ طیارہ اڑانے اور فضائی لڑائی پر توجہ دے گا، جبکہ پچھلی نشست پر موجود آپریٹر بغیر پائلٹ ڈرونز کے گروپس کو کنٹرول کرنے، اہداف کی نشاندہی اور زمینی و سمندری آپریشنز میں رابطہ کاری کی ذمہ داری سنبھال سکے گا۔
چینی ماہرین کے مطابق جے 20 اب صرف فضائی برتری حاصل کرنے والا لڑاکا طیارہ نہیں رہے گا بلکہ جدید جنگی نظام میں ایک فضائی کمانڈ اور رابطہ کاری پلیٹ فارم کا کردار بھی ادا کرسکے گا۔
چینی فضائیہ اس طیارے کو کے جے سیریز کے اواکس طیاروں، وائی وائی 20 فضائی ایندھن بھرنے والے طیاروں، جے 16 اور جے 10 سی لڑاکا طیاروں کے ساتھ مربوط آپریشنز میں استعمال کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں طالبان مخالف مسلح گروہوں کی کارروائیوں میں تیزی
چینی میڈیا کے مطابق جے 20 کی مشقیں اور آپریشنل سرگرمیاں مشرقی بحیرہ چین، جنوبی بحیرہ چین اور آبنائے تائیوان تک پھیل چکی ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جے 20 کی مختلف اقسام کی تیاری چین کی جنگی ہوا بازی میں اہم تبدیلی کی عکاس ہے، جس کے ذریعے چین جدید اسٹیلتھ طیاروں کی ٹیکنالوجی میں محض دوسرے ممالک کی پیروی کرنے کے بجائے عالمی سطح پر قائدانہ کردار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔












