کراچی( پاک ترک نیوز) تھرپارکر میں ایمبولینس میں دھماکے اور آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ چیف سیکریٹری سندھ نے مسترد کرتے ہوئے نئی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کردی۔ ابتدائی رپورٹ میں آکسیجن سلنڈر تبدیل کرنے کے دوران دھماکے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، تاہم واقعے کی حتمی وجہ تاحال سامنے نہیں آسکی۔ذرائع کے مطابق چیف سیکریٹری سندھ سید آصف حیدر شاہ نے محکمہ صحت کی جانب سے ڈی جی ہیلتھ کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور اسے واپس بھجوا دیا۔چیف سیکریٹری نے کمشنر میرپورخاص کی سربراہی میں تین رکنی نئی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے 72 گھنٹوں میں تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ نئی کمیٹی واقعے کی وجوہات، متعلقہ اداروں کے کردار اور ذمہ داریوں کا تعین کرے گی۔
ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایمبولینس میں خالی آکسیجن سلنڈر تبدیل کرنے کے دوران یا فوری بعد دھماکا ہوا۔ رپورٹ میں آکسیجن سلنڈر، والو اور ریگولیٹر کی خرابی یا غلط طریقے سے سلنڈر نصب کرنے کو دھماکے کی ممکنہ وجوہات قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آکسیجن فلو میٹر کھولنے کے لیے اسپینر استعمال کیا گیا، جبکہ گواہ ثمینہ کے مطابق سلنڈر تبدیل کرتے وقت ایمبولینس کا انجن بھی چل رہا تھا۔ عینی شاہدین نے بھی آکسیجن سلنڈر تبدیل کرنے کے دوران یا فوری بعد دھماکا ہونے کی تصدیق کی ہے۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایمبولینس میں پٹرول کی مناسب مقدار موجود تھی۔ گاڑی نے اکتوبر کے دوران اسلام کوٹ کے ایک پٹرول پمپ سے 233 لیٹر پٹرول بھروایا، جبکہ آخری مرتبہ 28 اکتوبر کو پٹرول ڈلوایا گیا تھا۔ تاہم تباہ ہونے والی ایمبولینس میں ایل پی جی یا سی این جی استعمال ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
یہ بھی پڑھیں: وسیم اکرم کا افغانستان پریمیئر لیگ کا حصہ بننے سے انکار
رپورٹ میں فائر سیفٹی کے حوالے سے بھی سنگین غفلت سامنے آئی ہے۔ دھانو دھانڈل اسپتال میں آگ بجھانے والا سلنڈر اسٹور روم میں رکھا ہوا تھا اور واقعے کے دوران استعمال نہیں کیا گیا۔ تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق اگر فائر سیفٹی سلنڈر باہر نصب ہوتا تو آگ پر قابو پانے میں مدد مل سکتی تھی۔مزید انکشاف ہوا کہ تھر کے اسپتالوں کے لیے آکسیجن سلنڈر ایسے دکاندار سے خریدے جارہے تھے جس کے پاس فروخت کا لائسنس یا سرٹیفکیٹ موجود نہیں تھا۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے ڈرائیور پانڈی اور چوکیدار اسحاق سگریٹ نوشی کرتے تھے، تاہم واقعے کے وقت سگریٹ پینے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
تحقیقاتی کمیٹی نے 30 اکتوبر کو جائے وقوعہ کا دورہ کرکے عملے کے بیانات ریکارڈ کیے اور دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لیا تھا۔







