بیجنگ ( پاک ترک نیوز) جنگ کا میدان بدلنے والا ہے! اب نہ پائلٹ کی جان خطرے میں، نہ ہر حملے کے لیے مہنگا میزائل داغنے کی ضرورت۔ چین نے سمندر میں ایسا جدید اسٹیلتھ ڈرون آزمانے کا دعویٰ کیا ہے، جو جنگی جہاز سے اڑ سکتا ہے، دشمن کی جاسوسی کر سکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اہداف کو نشانہ بھی بنا سکتا ہے! نام ہے جی جے 21! آخر اس ڈرون میں ایسا کیا ہے جو دنیا کی بحری طاقتوں کی توجہ حاصل کر سکتا ہے؟ دیکھیے یہ رپورٹ!
سمندر کی لہریں، جنگی جہاز کا عرشہ، اور پھر ایک ایسا ڈرون جو ریڈار کی نظروں سے بچتے ہوئے دشمن کے دفاعی نظام تک پہنچنے کے لیے تیار ہے!چین کے جدید ترین جی جے 21 اسٹیلتھ ڈرون نے اپنے نئے بحری جنگی جہاز سچوان سے اڑان بھرنے اور واپس اترنے کا تجربہ کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق یہ پیش رفت چین کی بحری جنگی صلاحیتوں میں اہم سنگِ میل ہے۔جی جے 21 کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ ریڈار کے لیے اس کا سراغ لگانا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس کی پروں جیسی منفرد ساخت اور خصوصی فضائی راستہ اسے کم نمایاں بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ یعنی دشمن کے فضائی دفاعی نظام کے لیے ایک نیا چیلنج!چینی دفاعی ماہر ژانگ شوئی فینگ کے مطابق اس کا ڈیزائن طویل پرواز کے لیے مؤثر بنایا گیا ہے۔ دعویٰ ہے کہ یہ دور دراز اہداف تک پہنچ کر جاسوسی اور حملے کے مشن انجام دے سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلک جاوید فیک ویڈیو کیس، لاہور ہائیکورٹ نے عظمیٰ بخاری کے وارنٹ گرفتاری معطل کر دیئے
مہنگے میزائل کی طرح ہدف کی طرف داغ کر اسے ضائع نہیں کرنا پڑتا۔ جی جے 21 واپس آ کر دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس کے ذریعے کم لاگت والے گائیڈڈ بم بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ یوں مسلسل جنگی کارروائیوں کے اخراجات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔اور سب سے اہم بات! یہ ڈرون انسانی پائلٹ والے لڑاکا طیاروں کے ساتھ مل کر دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنانے جیسے پیچیدہ مشن انجام دینے کے لیے بھی تیار کیا جا سکتا ہے۔چین کا جنگی جہاز سچوان الیکٹرومیگنیٹک کیٹپلٹ جیسی جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے، جو طیاروں اور ڈرونز کو بحری جہاز سے لانچ کرنے میں مدد دیتی ہے۔












