کوئٹہ ( پاک ترک نیوز) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ شہداء پر سیاست کسی صورت قابلِ قبول نہیں، دہشت گردی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ ریاست کو سیاست نہیں بلکہ مضبوط ریاستی اداروں کی ضرورت ہے۔
کوئٹہ میں انسدادِ دہشت گردی فورس اسکول کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کو ایک لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلا گیا، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ دہشت گردی اور گمراہ کن بیانیے کا بھرپور مقابلہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ معصوم نوجوانوں کو ورغلانے والوں کے مذموم عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
میر سرفراز بگٹی نے پاس آؤٹ ہونے والے اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "میرے بہادر شیرو! آپ نے اپنے صوبے اور اپنے وطن کی حفاظت کرنی ہے۔” انہوں نے کہا کہ جلد بلوچستان میں امن کا سورج پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہوگا اور دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی جی آئی ایس پی آرسوا 3بجے نیوزکانفرنس کریں گے
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان بڑی قربانیوں کے بعد معرضِ وجود میں آیا ہے اور یہ ملک ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ جو لوگ پاکستان کو توڑنے کے خواب دیکھتے ہیں، وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں، کسی کا باپ بھی پاکستان کو نہیں توڑ سکتا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور سکیورٹی ادارے صوبے اور ملک کو دہشت گردی سے نجات دلانے کے لیے پُرعزم ہیں اور اس مقصد میں کامیاب ہوں گے۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ آج ایک منظم سازش کے تحت ہر شہید کا الزام ریاست پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کارکردگی، گورننس یا دیگر سیاسی معاملات پر تنقید ضرور کی جا سکتی ہے، لیکن دہشت گردی اور شہداء کے معاملے کو سیاست کی نذر نہیں کرنا چاہیے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ بلوچ قوم کو برسوں تک ایک بے مقصد اور لاحاصل جنگ میں دھکیلا گیا، مگر اب بلوچ نوجوان خود یہ حقیقت سمجھ چکے ہیں کہ تشدد اور دہشت گردی کے راستے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ ہتھیار چھوڑ کر قومی دھارے میں واپس آنا چاہتے ہیں، ان کے لیے ریاست کے دروازے کھلے ہیں، جبکہ دہشت گردی کے راستے پر چلنے والوں کے خلاف قانون پوری قوت سے حرکت میں آئے گا۔












