لاہور( پاک ترک نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خانم اور نورین نیازی کی نظر بندی کے خلاف درخواستوں پر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا، تاہم عدالت نے نظر بندی کے نوٹیفکیشن کو فوری طور پر معطل کرنے کی استدعا مسترد کردی۔جسٹس عبہر گل خان نے درخواستوں پر سماعت کی۔ ڈاکٹر عظمیٰ خانم اور نورین نیازی کی جانب سے رانا مدثر عمر اور بیرسٹر تیمور عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے فرخ لودھی ایڈووکیٹ نے دلائل دیے۔
سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ متعلقہ فریقین سے رپورٹ منگوا لیتے ہیں۔وکیل رانا مدثر عمر نے عدالت کو بتایا کہ دونوں خواتین گھریلو خواتین ہیں، جبکہ ڈاکٹر عظمیٰ خانم کے خلاف درج مقدمے میں انہیں بے قصور قرار دیا جاچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے کی نقل بھی درخواست کے ساتھ موجود ہے۔ڈاکٹر عظمیٰ خانم کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں دو منٹ دیے جائیں تاکہ نظر بندی کے نوٹیفکیشن کو معطل کرانے کے لیے دلائل پیش کیے جاسکیں۔وکیل رانا مدثر عمر نے کہا کہ وہ عدالت کے سامنے کچھ حقائق بیان کرنا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں جامع تعلیمی اصلاحات، نیا نصاب، نئی کتابیں اور اساتذہ کی نئی تربیت
درخواست گزاروں کی جانب سے استدعا کی گئی کہ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری نظر بندی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔نورین نیازی کی بیٹی سکینہ سمیت دیگر درخواست گزاروں نے بھی اپنے وکیل رانا مدثر عمر ایڈووکیٹ کے توسط سے درخواستیں دائر کی ہیں۔












