
از: سہیل شہریار
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کو تمام درکار بین الاقوامی قواعد و ضوابط کی تکمیل کے بعد اب رواں ماہ کے اختتام سے پہلے مکمل اور باضابطہ طور پر اپنے نئے مالکان کے حوالے کر دیا جائے گا۔ جس کے نتیجے میںقومی ائر لائن کی نجکاری کا عمل مکمل ہوجائے گا جو عالمی ریگولیٹری تقاضوں کی عدم تکمیل کی وجہ سے گزشتہ سال دسمبر سے مسلسل تاخیر کا شکار تھا۔
نجکاری کمیشن کے مطابق پی آئی اے کے حکو مت سے نجی شعبے کو منتقلی کے عمل کی تکمیل کے لئے متعدد عالمی قواعد و ضوابط کی تکمیل ناگزیر تھی۔اب انہیں مکمل کر لیا گیا ہے۔قومی پرچم بردار ائر لائن کے مختلف ممالک میں آپریٹنگ حقوق کونجی شعبے کےنئے مالکان کو منتقل کیا جانا تھا۔ جس کے لیے ان ملکوں کے متعلقہ ریگولیٹرز کی منظوری درکار تھی جو حاسل کی جاچکی ہے۔اسی کے ساتھ صدر مملکت بھی قومی ائر لائن کی نجکاری کے لئے درکار اسکی سرکاری ادارے کی حیثیت کے خاتمے اور پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیلی کے لئے درکار ترمیم کی منظوری دے چکے ہیں ۔چنانچہ اب تمام مقامی اور بین الاقوامی ریگولیٹری منظوریاں مکمل ہو چکی ہیں۔
خواتین و حضرات
جیسا کے بتایا جاتا رہا ہے۔ہم میں سے اکثرپاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی نجکاری کو 135 ارب روپے کے عمومی سودے کے طور پر ہی جانتے ہیں۔ جس میں 2025 میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) میں 75 فیصد حصص حاصل کرنے کے لیے ایکمقامیکنسورشیم کا انتخاب کیا گیا تھا۔
حقیقت یہ ہے اگر اس لین دین کو ایک سادہ فروخت کے طور پر لیا جائےتو گمراہ کن ہوگا۔کیونکہ یہ ایک بہت زیادہ پیچیدہ انتظام ہے جس میں زیادہ تر رقم حکومت کو نقد رقم کے طور پر ادا نہیں کی گئی۔بلکہ حکومت کے سر سے بوجھ اتارنے پی آئی اے کو چلانے اور اسے دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے خود ایئر لائن میں ہی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔
چنانچہ اس سودے میںریاست کے ہاتھ میں صرف 55 ارب روپے ہی آتے ہیں۔ اس میں لین دین کے پہلے مرحلے سے منسلک تقریباً 10.1 ارب روپے اور باقی 25 فیصد سرکاری حصص کی حتمی منتقلی سے منسلک مزید 45 ارب روپے شامل ہیں۔ ایک بار جب یہ حتمی مرحلہ مکمل ہو جائے گا۔تب نجی خریدار کنسورشیم پی آئی اے ایکویٹی لمیٹڈ نامی ہولڈنگ کمپنی کے ذریعے ایئر لائن کا 100 فیصد مالک ہو گا۔
لہذایہ ایک سیدھی سیدھی فروخت نہیں ہے۔ بلکہ ایک مرحلہ وار مالیاتی بچاؤ کے قریب انتظام ہے۔ جس میں نجی سرمایہ کار ایک کمزور ایئر لائنکے مالکانہ حقوق حاصل کرتے ہیں اور اس میں پیسہ لگاتے ہیں، جب کہ ریاست نسبتاً کم نقد رقم لے کر ملکیت منتقل کر دیتی ہے۔لیکن ماضی کے نقصانات کا بوجھ اپنے کھاتے میں رکھتی ہے۔
یہ سمجھنے کے لیے کہ یہ معاہدہ ایسا کیوں نظر آتا ہے، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پی آئی اے کے مالی مسائل کتنے گہرے ہو گئے۔
ہم سبھی جانتے ہیں کہ موجودہ ہی نہیں ماضی کی حکومتوں نے بھی پی آئی اے کی نجکاری کی کوششیں کی تھیں مگرائر لائن کو درپیش گھمبیر مسائل کی وجہ سے کوئی بھی اسے خریدنے کے لئے تیار نہیں تھا۔چنانچہ موجودہ حکومت نے بھی دو ناکامیوں کے بعد یہ سخت فیصلہ کیا کہ قومی ائر لائن کے نقصانات کو ادارے سے الگ کر کے نجکاری کے لئے پیش کیا جائے۔پچھلے دس سے بارہ برسوں کے دوران پی آئی اے کا خالص خسارہ بڑھتے بڑھتے اب 500ارب روپے تک پہنچ چکا تھا۔ جبکہ تمام قرضوں، غیر ادا شدہ بلوں، پنشن کی ذمہ داریوں اوردیگر واجبات کو ملایا جائے تو کل بوجھ تقریباً 650 ارب روپے تک پہنچ جاتا ہے۔
قومی ائر لائن کے یہ نقصانات کسی ایک حکومت یا واقعہ کی وجہ سے نہیں ہوئے۔ ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات، گرتی ہوئی کرنسی، ناقص انتظام، سیاسی مداخلت، اور ایک ایسا ڈھانچہ جو کبھی بھی ایئرلائن کے آپریشنز کے سائز کے مطابق نہیں تھ۔ وہ چند وجوہات ہیں جن کے نتیجے میں ادارہ بتدریج خسارے کے سمندر میں ڈوبتا چلا گیا۔70اور 80کی دہائیوں میں پی آئی اے نے تقریباً 14,500 اضافی لوگوں کو ملازمت دی۔جبکہ اسکے پاس فعال بیڑا صرف 30 کے قریب طیاروںپر مشتمل تھا۔ جن کی دیکھ بھال کے لئے زیادہ سے زیادہ 8ہزار افراد درکار تھے نتیجہ یہ نکلا کہ ملازمین کی تعداد 24ہزار سے تجاوز کرنے پر اخراجات میں نمایاں اضافے سے منافع بخش ادارہ نقصان میں چلا گیا ۔اور دنیا کی بہترین ائر لائنز میں سے ایک پی آئی اےکی تنزلی کا آغاز ہو گیا۔ اب ایئر لائن کے لیے خطے میں نجی کیریئرز کے ساتھ مقابلہ کرنا مشکل ہو گیا۔
قومی پرچم بردار ائر لائن کو ہونے والا نقصان سال بہ سال بڑھتا رہا اور کچھ ادوار میں نقصانات 60 ارب روپے سے 90 ارب روپے سالانہ تک پہنچ گئے۔ پی آئی اے اب صرف ایک ایئر لائن نہیں رہی تھی جو جدوجہد کر رہی تھی۔ بلکہ ایک بڑے برانڈ نام سے منسلک بڑا مالی بوجھ بن گئی تھی۔یہی وقت تھا جب ادارے میں تظہیر یااس کی نجکاری ناگزیر ہو گئی تھی۔ مگر اس اہم فیصلے کو سیاسی و دیگر وجوہات کی بنا پر ملتوی کیا جاتا رہا ۔
جدیدمعاشیات کا ایک اہم نظریہ ہے کہ حکومتوں کا کام کاروبار چلانا نہیں۔اسی لئے ترقیافتہ ملکوں میں حکومتیں صرف ریگولیٹر کی ذمہ داری نبھاتی ہیں ۔ جبکہ ہر طرح کے کاروباری ادارے نجی شعبہ چلاتا ہے جن میں بنیادی ضروریات سمیت سب کچھ شامل ہے۔اسی لئے تمام عالمی مالیاتی ادارے سرکار کے عوامی خدمات کے ادارے چلانے کے پرانے تصور کی نفی کرتے ہوئے قرض لینے والے ملکوں پر ایسے تمام اداروں کی نجکاری کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں ۔ اور پاکستان کو بھی عالمی بنک، آئی ایم ایف اور دیگر اداروں کی جانب سے دباؤ کا سامنا رہا ہے۔
چنانچہ اپنے تمام تر مالی بوجھ کے ساتھ پی آئی اے کی نجکاری کی ابتدائی کوشش میں ناکامی کے بعد موجودہ حکومت نے 2024 میںادارے کی تنظیم نو کا بڑا فیصلہ کرتے ہوئے آج کی ایئر لائن کو ماضی سے الگ کرنےکی منظوری دی جس کے تحت تقریباً 654 ارب روپے کے پرانے قرضوں اور ذمہ داریوں کو الگ ڈھانچے پی آئی اے ہولڈنگ میں منتقل کیا گیا۔ اس میں بینک کے قرضے، پنشن کے وعدے، سپلائر کی ادائیگی، اور دیگر تاریخی ذمہ داریاں شامل تھیں۔یوں ایئر لائن کا ایک شفاف روپ سامنے آیا جسے پاکستان انٹرنیشنل ائر لائنز کمپنی لمیٹڈ( پی آئی اے سی ایل) کہا جاتا ہے۔تاہم اس نئے ڈھانچے میں اب بھی تقریباً 180 ارب روپے کی بقایا ذمہ داریاں موجود ہیں۔
اب پی آئی اے کی نجکاری سے قبل ائر لائن میں درکار اہم اصلاحات کا مر حلہ سامنے آیا جس کے تحت مالی تنظیم نو کے ساتھ ساتھ کچھ آپریشنل تبدیلیاں بھی کی گئیں لیکن وہ صرف جزوی تھیں۔ادارے کی افرادی قوت کو تقریباً 14,500 ملازمین سے کم کر کے 7,000 کے قریب کر دیا گیا۔ یہ ہدف رضاکارانہ اخراج کے پروگراموں اور قدرتی ریٹائرمنٹ سمیت دیگر طریقوںکو بروئے کار لا کر حاصل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے نجی ملکیت میں منتقل
ایئر لائن نے اپنے روٹس کا نیٹ ورک بھی کم کر دیا۔ خسارے میں جانے والی یورپی اور ثانوی بین الاقوامی منزلوں کووقتی طور پر بند کر دیا گیا۔ جبکہ توجہ زیادہ منافع بخش روٹس پر منتقل کی گئی جن مین خلیجی ممالک اور سمندر پار پاکستانیوں کی زیادہ اابادی والے یورپی ملکوںکے علاوہ امریکہ اور کینیڈا شامل ہیں۔ چنانچہ آج کی پی آئی اے ایک چھوٹی مگر زیادہ توجہ مرکوز ایئر لائن ہے۔
خواتین و حضرات!
اب پی آئی اے کی نجکاری کے 135 ارب روپے کے معاہدے کےاصل ڈھانچے کی بات کر تے ہیں۔اگرچہ نجکاری کے اس لین دین کو اکثر 135 ارب روپے کا معاہدہ بتایا جاتا ہے۔مگر یہ حکومت کو ادا کی گئی رقم نہیں ہے۔اس کے بجائے اس کا زیادہ تر حصہ ایئر لائن میں ہی لگایاجانا ہے۔ تقریباً 125 ارب روپے لازمی سرمائے کے طور پر رکھے گئے ہیں جو استحکام، آپریشنز اور بتدریج بہتری کے لیے پی آئی اے سی ایل میں داخل کیے جائیں گے۔جبکہ حکومت کو فی الحال صرف 10ارب روپے کی معمولی رقم ہی ملی ہے جو کمپنی کے بقیہ 25فیصد حصص کی منتقلی کے بعد بڑھ کر 55ارب روپے تک پہنچ جائے گی۔اور اسی کے ساتھ پی آئی اے سی ایل کی ملکیت مکمل طور پر پی آئی اے ایکویٹی لمیٹڈکو منتقلہو جائے گی۔جس کی مجموعی سرمایہ کاری کا تخمینہ 180ارب روپے لگایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کی منتقلی معاشی اصلاحاتی سفر کا اہم سنگ میل عبور ہو گیا ،وزیراعظم
نجکاری کے عمل میں قومی پرچم بردار ائر لائن کو نجی شعبے کے معروف ملکی اداروں کےکنسورشیم کو فروخت کیا گیا ہے۔ جس میں عارف حبیب کارپوریشن اور فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی مشترکہ طور پر 34.1 فیصد، فوجی فرٹیلائزر کمپنی 34 فیصد، لیک سٹی ہولڈنگز 14 فیصد، اے کے ڈی گروپ 10.25 فیصد، اور دی سٹی سکول 7.65 فیصدکے حصے دار ہیں۔اب نجکاری کا عمل مکمل ہونے کے فوری بعد یہ کنسورشیم پہلے مرحلے میںبتدریج سرمایہ کاری شروع کرے گا جس کا آغاز سرمائے کی مستحکم دستیابی اور اس کے بعدانتظامی مضبوطی کی باری آئےگی۔درمیانی مدت کی ترجیحات میں بحری بیڑے کی معقولیت، بحالی کے نظام کی اپ گریڈیشن، اور لاگت کی تنظیم نو شامل ہوگی۔












