لاہور(پاک ترک نیوز) مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے، اس بار دنیا کی نظریں کسی مغربی دارالحکومت پر نہیں بلکہ اسلام آباد پر مرکوز ہیں۔ پاکستان، جو ماضی میں بھی پیچیدہ عالمی تنازعات میں خاموش مگر مؤثر کردار ادا کرتا رہا ہے، آج ایک بار پھر سفارتی محاذ پر سرگرم دکھائی دیتا ہے۔ امریکا اور ایران جیسے دیرینہ حریف ایک ہی میز پر بیٹھنے جا رہے ہیں اور یہ کوئی معمولی پیش رفت نہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے بیچ پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارتکاری کے مرکز میں آ کھڑا ہوا ہے۔ اسلام آباد میں آج اور کل ہونے والے اہم مذاکرات میں امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطحی وفود شریک ہوں گے، جہاں جنگ بندی، علاقائی امن اور حساس معاملات پر بات چیت ہوگی۔
امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے،، ٹرمپ کے مشیر سٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر امریکی وفد کا حصہ ہوں گے،، ایران کی طرف سے وزیرخارجہ عباس عراقچی اور سپیکر باقر قالیباف نمائندگی کریں گے۔
پاکستان کے لیے یہ لمحہ کسی امتحان سے کم نہیں۔ ایک جانب عالمی طاقتوں کا دباؤ، دوسری طرف خطے کے امن کی ذمہ داری۔ یہ توازن برقرار رکھنا آسان نہیں ہوگا۔اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ مذاکرات واقعی امن کی راہ ہموار کریں گے یا محض وقتی وقفہ ثابت ہوں گے؟ ماضی کے تجربات ہمیں بتاتے ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد کا فقدان سب سے بڑی رکاوٹ رہا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی پیش رفت ہوتی بھی ہے تو اس کا دیرپا ہونا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
ادھر ایران نے مذاکرات سے پہلے امریکا پر واضح کر دیا کہ لبنان کو جنگ بندی سے الگ نہیں کیا جا سکتا ، ایرانی سپیکر باقر قالیباف کا کہنا ہے جنگ بندی کی خلاف ورزی پر سخت ردعمل آئے گا ۔دوسری طرف امریکا اور اسرائیل کا مؤقف یہ ہے کہ لبنان معاہدے کا حصہ نہیں ہے
مذاکرات کے پہلے مرحلے میں جنگ بندی کی شرائط پر بات چیت ہو گی ،نئی تجاویز پر بھی غور کیا جائے گا،خطے میں کشیدگی کم کرنے کے اقدامات پر گفتگو ہو گی۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کئی ماہ سے شدت اختیار کر چکی ہے، جس میں لبنان، خلیجی ممالک اور دیگر مزاحمتی محاذ بھی شامل ہو چکے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کی ثالثی کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد کے مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں علاقائی تناؤ میں کمی آ سکتی ہے مذاکرات ناکام ہوئے تو کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے ۔
اسلام آباد میں سجی یہ میز صرف دو ممالک کے درمیان بات چیت نہیں، بلکہ ایک پورے خطے کے مستقبل کا فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ آنے والے چند گھنٹے یہ طے کریں گے کہ آیا دنیا ایک نئی جنگ کے دہانے سے پیچھے ہٹتی ہے یا ایک اور طویل کشیدگی کے دور میں داخل ہونے جا رہی ہے۔












