اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان نے امن کا دروازہ ایک بار پھر کھول دیا،امریکا اور ایران مذاکرات کیلئے رضا مند ہو گئے ۔ پاک ،ایران دوبارہ جنگ کا خطرہ بھی ٹل گیا ،اگلے چوبیس گھنٹے نہایت اہم قرار دیئے جا رہے ہیں ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کل ایران کے ساتھ مذاکرات کا اعلان کر دیا ۔
مذاکرات کے دوسرے دور سے متعلق مثبت اشارے یقیناً حوصلہ افزا ہیں، تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ خطہ مستقل امن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ امریکی مؤقف میں ایک طرف لچک دکھائی دیتی ہے تو دوسری طرف سختی بھی برقرار ہے۔
امریکی خبر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ذاکرات کے دوسرے دور میں اچھی خبر متوقع ہے۔ ایران میں گرفتار آٹھ خواتین مظاہرین کو اب پھانسی نہیں دی جائے گی،، چار کو فوری اور باقی کو ایک ماہ بعد رہائی ملے گی،،امریکی صدر نے درخواست پر توجہ دینے پر ایرانی حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا۔
ایران عزتِ نفس اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ایران ابھی تک امریکی نیت پر مکمل اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے نہ صرف امریکی پالیسیوں کو منافقانہ قرار دیا بلکہ یہ بھی واضح کیا کہ دباؤ اور دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات پائیدار نتائج نہیں دے سکتے۔ امریکی ناکہ بندی، دھمکیاں اور وعدوں کی خلاف ورزی مذاکرات میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
ادھر وائٹ ہاؤس نے جنگ بندی میں تین سے پانچ دن کی توسیع سے متعلق خبروں کو غلط قرار دے دیا ، پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا جنگ بندی کے لیے کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی گئی۔
پاکستان کے لیے موجودہ صورتحال بڑا امتحان قرار دیا جا رہا ہے ۔ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو پاکستان کی سفارتی ساکھ میں نمایاں اضافہ ہوگا، لیکن اگر یہ عمل ناکام ہوتا ہے تو خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے، جس کے اثرات براہ راست پاکستان پر بھی مرتب ہوں گے۔ ایرانی صدر کا بیان اس مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اب بھی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔پاکستانی وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام نے جمع کو اسلام آباد میں مذاکرات کی حتمی تصدیق سے انکار کر دیا ہے ،ذرائع کے مطابق ابھی سب کچھ زیر غور ہے ،حتمی کچھ نہیں ۔
خطہ اس وقت بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہوا ہے ،پاکستان کی سفارتکاری نے وقتی طور پر آگ کو تھام تو لیا ہے ،مگر سوال یہ ہے کہ یہ خاموشی طوفان سے پہلے کی ہے یا واقعی امن کا آغاز؟، پاکستان نے دروازہ کھول دیا ہے۔اب یہ امریکہ اور ایران پر منحصر ہے کہ وہ اس دروازے سے امن کی طرف بڑھتے ہیں یا دوبارہ تصادم کی راہ اختیار کرتے ہیں۔
ماہرین کا بھی کہنا ہے آنے والا وقت یہ طے کرے گا کہ خطہ امن کی طرف بڑھتا ہے یا ایک نئی کشیدگی جنم لیتی ہے۔ پاکستان کی سفارتکاری نے راستہ تو بنا دیا، اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ کوششیں مستقل امن میں بدلتی ہیں یا نہیں۔












