تہران ( پاک ترک نیوز) مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی برقرار رہنے اور امریکا ،ایران معاہدے کے امکانات روشن ہو گئے ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی معاہدہ جلد ہونے کی نوید سنا دی ،،،جبکہمشرقِ وسطیٰ میں کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے بعد سفارتی محاذ پر غیر معمولی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہناہے ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن ہے ،ایران بھی اس پر دستخط کرنا چاہتا ہے۔ اسرائیلی حملوں میں کمی لانے میں کامیاب رہا ،اسرائیلی وزیراعظم کو کہا نئی جنگ نہیں چاہتا، جنگ کی تو نتین یاہو خود کو تنہا پائے گا، ۔۔ فون پر نیتن یاہو سے کہا تھا کہ اسرائیل ایران کے بیلسٹک میزائل حملوں کا جواب نہ دے۔ اسرائیل نے حملوں سے متعلق امریکا کو اس وقت اطلاع دی جب میزائل ایران کی جانب داغے جاچکے تھے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا ایران کے ساتھ مذاکرات میں امریکا اپنے اہداف حاصل کرنے کے لئے مضبوط پوزیشن میں ہے۔ ایرانی اس جنگ کو مزید جاری نہیں رکھنا چاہتے، یہ ان کے مفاد میں نہیں، میرا خیال ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر آرہے ہیں اور سنجیدہ تجاویز پیش کر رہے ہیں، جن کی ہم یقیناً تصدیق کریں گے۔ اگر ہم اس معاہدے تک پہنچ جاتے ہیں تو یہ امریکی عوام کے لیے ایک بڑی کامیابی ثابت ہوگا۔
اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے کہا امریکا ،ایران جنگ بندی اور حتمی مسودے پر بات چیت جاری ہے ،حتمی مسودے پر ابھی اتفاق نہیں ہوا، کوششیں جاری ہیں ، سودے اور گفتگو کا تبادلہ پاکستان کے ذریعے کیا گیا، امیر سعید ایروانی نے مزید کہا جنگ بندی کے مسودے میں لبنان سمیت تمام علاقوں کو شامل کیا جائے گا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیکان نے کہامیدان چھوڑا ہے نہ ہی مذاکرات کی میز،، سفارتکاری اور دفاع، قومی طاقت کے دو اہم بازو ہیں،، اولین ترجیح قومی سلامتی اور عوام کے امن و استحکام کا تحفظ ہے ،ایران کسی بھی قسم کی دھمکی یا دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔
دوسری طرف اسرائیل نے کرم ابو سالم اور رفح کراسنگ کھولنے کا اعلان کر دیا ہے ۔اسرائیلی حکام کے مطابق دونوں کراسنگ کو لوگوں کی آمدورفت کیلئے کھولا جائے گا، رفح کراسنگ محدود نقل و حرکت کیلئے کھولی جائے گی۔کرم ابو سالم کراسنگ غزہ میں انسانی امداد کیلئے کھولی جائے گی، اسرائیل نے رواں سال مارچ میں دونوں گزر گاہیں بند کر دی تھیں۔
ادھر لبنان کے صدر جوزف عون نے اسرائیل کو مذاکرات کی دعوت دے دی ،کہتے ہیں خطے میں دیرپا استحکام صرف بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ طاقت کا استعمال مستقل امن کی ضمانت نہیں بن سکتا۔اگر دونوں فریق سنجیدگی سے مسائل کا حل چاہتے ہیں تو مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا۔ لبنان گفتگو کے لیے تیار ہے اور تنازعات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو ترجیح دیتا ہے۔












