لاہور( پاک ترک نیوز) انگلینڈ کے خلاف ہیڈنگلے ٹیسٹ میں اننگز اور 103 رنز کی شکست کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کی مسلسل ناقص کارکردگی نے ٹیم مینجمنٹ، ڈومیسٹک کرکٹ کے ڈھانچے اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے انتظامی معاملات پر نئے سوالات اٹھا دیے۔کرک انفو کے سینئر ایڈیٹر اور پاکستان کرکٹ کے ماہر عثمان سمیع الدین کے مطابق پاکستان نے اپنی گزشتہ 19 ٹیسٹ میچز میں سے 14 میں شکست کھائی ہے، جس کے بعد صورتحال خطرے کی گھنٹی بجانے کے مرحلے تک پہنچ چکی ہے۔
انگلینڈ کے خلاف ہیڈنگلے ٹیسٹ میں پاکستان کی بیٹنگ، باؤلنگ اور فیلڈنگ تینوں شعبوں میں مایوس کن کارکردگی سامنے آئی۔ پاکستانی ٹیم میچ کے تیسرے ہی روز اننگز اور 103 رنز سے شکست کھا گئی۔ڈومیسٹک کرکٹ کا بار بار بدلتا ڈھانچہعثمان سمیع الدین کے مطابق پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے ڈومیسٹک کرکٹ کے ڈھانچے پر بحث جاری ہے، تاہم سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ نظام کو مستقل بنیادوں پر چلنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ان کے مطابق 1953 میں فرسٹ کلاس کرکٹ کے آغاز کے بعد سے ڈھانچے میں مسلسل تبدیلیاں کی گئیں، جبکہ 2019-20 میں ٹیموں کی تعداد 16 سے کم کرکے 6 کردی گئی اور بعد میں دوبارہ 16 ٹیموں تک بڑھا دی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ 2019 میں ڈومیسٹک ٹیموں کی تعداد کم کیے جانے سے بڑی تعداد میں فرسٹ کلاس کرکٹرز کا کیریئر متاثر ہوا اور بعض کھلاڑیوں کو روزگار کے لیے دیگر کام اختیار کرنا پڑے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک انگلینڈ دوسرا ٹیسٹ 27 اگست سے شروع ، قومی سکواڈ لندن پہنچ گیا
عثمان سمیع الدین کے مطابق ڈومیسٹک کرکٹ کے معیار کے لیے ضروری ہے کہ کھلاڑیوں کو مختلف پچز اور حالات میں کھیلنے کا موقع ملے، لیکن گزشتہ چند برسوں میں فرسٹ کلاس مقابلے صرف چند میدانوں تک محدود رہے ہیں۔ پاکستان کے اسٹار فاسٹ بولرز شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ سمیت کئی باصلاحیت کھلاڑیوں کی انجریز اور مسلسل عدم تسلسل بھی زیر بحث ہیں۔عثمان سمیع الدین کے مطابق نسیم شاہ نے دسمبر 2024 کے بعد کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا، جبکہ شاہین شاہ آفریدی گھٹنے کی انجری سے واپسی کے بعد 27 میں سے صرف 9 ٹیسٹ میچز کھیل سکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ شاہین آفریدی کی انجری اور بحالی کے عمل کے دوران بھی کئی سوالات اٹھے اور انہیں شاید بہت جلد میدان میں واپس لایا گیا۔انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ فاسٹ بولرز کے لیے باقاعدگی سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنا جسمانی فٹنس اور ردھم برقرار رکھنے کے لیے اہم ہے، تاہم شاہین گزشتہ تین برسوں میں بہت کم فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل سکے ہیں۔
پی سی بی میں قیادت کی تبدیلیاں
پاکستان کرکٹ بورڈ کی انتظامیہ میں بار بار تبدیلیوں کو بھی ٹیم کی مشکلات کی ایک بڑی وجہ قرار دیا گیا۔عثمان سمیع الدین کے مطابق 2021 کے بعد سے پی سی بی کے چار چیئرمین تبدیل ہوچکے ہیں، جن میں رمیز راجا، نجم سیٹھی، ذکا اشرف اور موجودہ چیئرمین محسن نقوی شامل ہیں۔ان کے مطابق مختلف چیئرمینز کے مختلف اندازِ انتظام اور پالیسیوں میں تبدیلیوں نے بھی کرکٹ کے نظام میں عدم استحکام پیدا کیا۔












