
از: سہیل شہریار
حکومت پاکستان کی معاشی میدان میں کارکردگی کے حوالے سے پچھلے مالی سال 2024-25کے حتمی اعداد وشمار کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ جن میں تازہ اضافہ سال بھر میں سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے وطن بھیجی جانے والی 38.3ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات زر بھی شامل ہو گئی ہیں۔
اگرچہ ماہرین معیشت کے گروپ کی رائے ہے کہ ترسیلات زر میںاضافے سےحکومت کا کوئی زیادہ لینا دینا نہیں ۔مگر حکومت اس کا سہرا اپنے سر سجانے پر مصر ہے۔ چنانچہ وزیر اعظم صاحب سمیت وزیر ومشیر ریکارڈ ترسیلات زرکو ایک بڑا کارنامہ گردانتے ہوئے اسے قومی معیشت اورحکومتی پالیسی اقدامات پر سمندر پار پاکستانیوں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا عکاس قرار دے رہے ہیں۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کی تحقیق کی بھی رائےہے کہ جب ملک کے معاشی حالات بہتر ہوتے ہیں اور جب ترسیلات زر اور ملکی اقتصادی سرگرمیوں کے مابین مثبت تعلق ہوتا ہے تو تارکین وطن زیادہ ترسیلات بھیجتے ہیں۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہےکہ جولائی تا جون 2024-25کے دوران ترسیلات زرمیں 26.6 فیصد اضافہ ہوا اور وہ 38.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ جبکہ مالی سال 2023-24کے دوران موصول ہونے والی ترسیلات زر 30.3 ارب ڈالر تھیں۔
اسی طرح سال بہ سال کی بنیاد پرجون 2025 میں کارکنوں کی ترسیلات زر 7.9 فیصد بڑھ کر 3.406 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ جو کہ گزشتہ سال کے اسی ماہ کے دوران 3.158 ارب ڈالر تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق جون 2025 کے دوران سعودی عرب 823.2ملین ڈالراور متحدہ عرب امارات717.2 ملین ڈالر کےساتھ ترسیلات زر کی آمد کے سب سے بڑے ذرائع تھے۔ جن کے بعد برطانیہ537.6 ملین ڈالراور امریکہ 281.2ملین ڈالرکے ساتھ تیسرے اور چوتھے نمبر پررہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام لانے کے بعد معاشی خوشحالی کے لیے پرعزم ہے۔ ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ تارکین وطن کی گرانقدر شراکت اور قومی معیشت میں ان کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔جبکہ تازہ مثبت معاشی اشاریے "حکومت کی درست سمت میں پالیسیوں کا مظہر” ہیں۔












