
از: سہیل شہریار
پورے امریکہ اور ایک درجن سے زیادہ دیگرممالک میں 3,500 نو کنگزاجتماعات میں 85 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا۔جبکہ نو کنگز احتجاجی اجتماعات کے منتظمین نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ امریکی تاریخ میں مظاہروں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
ہفتے کے روز ہونے والا نو کنگز احتجاجی سلسلے کا تیسرا دور تھا۔ جس کا اہتمام سماجی تنظیموں، مزدور یونینوں اور امرانہ طرز حکومت کے مخالف گروپوں کے ایک اتحاد نے کیا تھا۔اس سے قبل اکتوبر میںہونے والے دوسرےملک گیر احتجاج نے 70 لاکھ افراد کو اپنی طرف متوجہ کیاتھا۔
امریکہ بھر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ہونے والے ان مظاہروں کے جاری سلسلے نے مظاہرین کو انہیں درپیش تمام مسائل پر متوجہ کیا۔ ان میں تارکین وطن کے خلاف بنائے گئے ادارے آئی سی ای کے چھاپوں سے لے کر ایران میں جنگ تک۔ اور ووٹنگ کے حقوق کو درپیش خطرات سے لیکر بڑھتی ہوئی مہنگائی تک سبھی شامل ہیں۔ٹرمپ مخالف مظاہروں کے اس جاری سلسلے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ آخری نوکنگزکے بعد سے ہم اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھ رہے ہیں۔ جب کہ ایران میں ایک غیر قانونی جنگ جاری ہے۔جس سےامریکہ کے لوگ ناراض ہیں۔
منتظمین نے بتایا کہ احتجاج صرف بڑے ترقی پسند شہروں میں نہیںہوئے۔ بلکہ نو کنگز کے تقریباً نصف اجتماعات حکومت کی حامی ریاستوں یا میدان جنگ والی ریاستوںمیں منعقد ہوئے ہیں۔ یہی نہیں ملک میں پہلی بار کچھ دیہی علاقوں میں بھی ٹرمپ مخالف اجتماعات ہوئے جنہوں نے پہلے کبھی اس طرح کی نقل و حرکت نہیں دیکھی تھی۔ پنسلوانیا سے مڈلینڈ، ٹیکساس تک لوگ ٹرمپ اور ایران میں جنگ کے خلاف احتجاج کے لیے بینرز پکڑے ہوئے ہیں۔
مینیسوٹا کے جڑواں شہروں، منیاپولس اور سینٹ پال میں ہونے والی "فلیگ شپ” تقریب میں غیر جانبدار میڈیا کے اندازے کے مطابق تقریباً 200,000 لوگوں نے ٹرمپ انتظامیہ اور ایران جنگ کے خلاف ریاستی دارالحکومت کے اطراف کی سڑکوں کو بھر دیا۔اس موقعہ پرورمونٹ کے آزاد سینیٹر برنی سینڈرز نے سیاست میں انتہائی امیروں کے کردار کے بارے میں تبصرے کے ساتھ ہجوم کو مشتعل کردیا۔ اس اجتماع میں گلوکار بروس اسپرنگسٹن اور اداکارہ جین فونڈا بھی شریک ہوئے ۔جبکہ نیویارک میں ہونے والے مظاہروں میں اداکاررابرٹ ڈی نیرو،ریو ال شارپٹن اور پدما لکشمی ہاتھ سےبنائے بینرز پکڑے ہوئے ہجوم کے سامنے داخل ہوئے ۔
اسی طرح امریکہ سے باہر ٹوکیو، پیرس، برلن، روم ، سڈنی اور لندن سمیت دیگر شہروں میں بھی بڑے عوامی ہجوم نےٹرمپ اور ایران جنگ کے خلاف احتجاج کیا۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ نو کنگز کے چوتھے دور سے قبل اب لگ بھگ تین ماہ کے دواران لوگوں کی تربیت اور انہیں انکے حقوق سے آگاہی کا ایک دور مکمل کیا جائے گا۔












