اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) دو ہزار پچیس کے دوران تیل اور گیس کی متعدد نئی دریافت کے باعث پاکستان کے ہائیڈروکاربن ذخائر میں نمایاں بہتری آ گئی ، جس سے ملک کے توانائی ذخائر کی مدت میں اضافہ ہوا ہے اور جاری پیداوار کے اثرات کو جزوی طور پر متوازن کرنے میں مدد ملی ۔
عارف حبیب لمیٹڈ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 تک پاکستان کے مجموعی ہائیڈروکاربن ذخائر کی مدت بڑھ کر 17 سال ہو گئی ، جس کی بنیادی وجہ تیل اور گیس کے ذخائر میں اضافہ ہے۔
عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق گیس کے ذخائر کی مدت بڑھ کر 18 سال جبکہ تیل کے ذخائر کی مدت 11 سال ہو گئی ۔اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے تیل کے ذخائر دسمبر 2025 میں سالانہ بنیاد پر 6 فیصد اضافے کے ساتھ 253 ملین بیرل تک پہنچ گئے۔ اس اضافے میں باراغزئی فیلڈ سے 21.01 ملین بیرل کا بڑا اضافہ شامل ہے، جبکہ بیٹنی اور شہدادپور فیلڈز نے بھی اہم کردار ادا کیا۔
اسی طرح گیس کے ذخائر میں سالانہ بنیاد پر 4 فیصد اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 18,854 ارب مکعب فٹ تک پہنچ گئے۔ اس اضافے میں ماری غازیج، شہدادپور، شیوا اور بیٹنی فیلڈز کے ساتھ ساتھ باراغزئی، سپن وام اور سوہو فیلڈز کا بھی نمایاں حصہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق ذخائر کی مدت میں بہتری بنیادی طور پر نئی دریافت کی بدولت ممکن ہوئی۔ سپن وام، باراغزئی، بٹریسم ایسٹ، چکر اور فاکر سمیت نئے دریافت ہونے والے فیلڈز نے دسمبر 2025 تک ملک کے تیل کے ذخائر میں مجموعی طور پر 23.8 ملین بیرل اور گیس کے ذخائر میں 367.2 ارب مکعب فٹ کا اضافہ کیا۔
ماہرین اس پیش رفت کو پاکستان کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دے رہے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی پاکستان کی معیشت کے لیے خطرات پیدا کر رہی ہے اور توانائی کا شعبہ اس سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتا ہے۔
پاکستان اپنی خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور ایل این جی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، جن میں سے بیشتر خلیجی ممالک سے آتی ہیں اور آبنائے ہرمز کے ذریعے پاکستان پہنچتی ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر اس سمندری راستے میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ممالک کو فوری طور پر اس کے اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسے حالات میں مقامی تیل و گیس ذخائر میں اضافہ پاکستان کی توانائی سلامتی اور معاشی استحکام کے لیے خوش آئند پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔












