لاہور( پاک ترک نیوز) کبھی آپ نے سوچا ہے کہ اگر آج ایک دیوہیکل خلائی پتھر زمین سے آ ٹکرائے تو کیا ہوگا؟ چند لمحوں میں بڑے شہر ملبے کا ڈھیر بن سکتے ہیں، سمندر میں خوفناک سونامی جنم لے سکتی ہے اور پوری دنیا کا موسم یکسر بدل سکتا ہے۔
تقریباً 6 کروڑ 60 لاکھ سال پہلے زمین پر کچھ ایسا ہی ہولناک واقعہ پیش آیا تھا، جس نے کروڑوں برس تک حکمرانی کرنے والے ڈائنوسارز کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔
اب سائنسدانوں نے اس تباہ کن واقعے سے متعلق ایک نئی اور اہم دریافت کی ہے۔ بین الاقوامی ماہرین کی تحقیق کے مطابق ڈائنوسارز کے خاتمے کا سبب بننے والا خلائی پتھر عام شہابیہ نہیں تھا بلکہ یہ نظامِ شمسی کے قدیم ترین اور نایاب پتھروں میں سے ایک تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانیوں کے لیے خوشخبری، اگست میں مسلسل 3 چھٹیاں
یہ تحقیق برطانیہ، فرانس، بیلجیم اور آسٹریا کے سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر انجام دی، جس کے نتائج ایک معتبر سائنسی جریدے میں شائع کیے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ شہابیہ تقریباً 10 کلومیٹر چوڑا تھا، یعنی ایک بڑے شہر کے برابر۔ یہ موجودہ میکسیکو کے علاقے یوکاٹان سے ٹکرایا، اور اس ایک تصادم نے زمین کی تاریخ کا رخ ہی بدل دیا۔
ٹکر کے فوراً بعد شدید زلزلے آئے، سمندر میں دیوہیکل لہریں اٹھیں، جنگلات آگ کی لپیٹ میں آ گئے جبکہ گرد اور دھواں فضا میں اس قدر پھیل گیا کہ کئی برس تک سورج کی روشنی زمین تک نہ پہنچ سکی۔
روشنی کی کمی کے باعث زمین کا درجہ حرارت تیزی سے کم ہوا، پودے ختم ہونے لگے، پھر سبزی خور جانور معدوم ہوئے اور آخرکار گوشت خور جانور بھی زندہ نہ رہ سکے۔ اس عالمی تباہی کے نتیجے میں زمین پر موجود تقریباً 75 فیصد جاندار ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئے، جن میں ڈائنوسارز بھی شامل تھے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ نایاب خلائی پتھر غالباً نظامِ شمسی کے بیرونی حصے سے آیا تھا، جہاں قدیم شہابیے گردش کرتے ہیں، ممکنہ طور پر مشتری کے مدار کے قریب سے۔
تحقیق میں ایک اور اہم نکتہ بھی سامنے آیا ہے۔ ماضی میں خیال کیا جاتا تھا کہ ڈائنوسارز کے خاتمے کی بڑی وجہ زہریلی گیسیں تھیں، لیکن نئی تحقیق کے مطابق اصل کردار ان بے شمار باریک ذرات نے ادا کیا جو تصادم کے بعد فضا میں پھیل گئے اور برسوں تک سورج کی روشنی کو روک کر زمین کے ماحول کو شدید متاثر کرتے رہے۔
یعنی صرف ایک خلائی پتھر کے زمین سے ٹکرانے نے پوری دنیا کے ماحولیاتی نظام کو بدل دیا اور ڈائنوسارز سمیت لاکھوں اقسام کے جانداروں کو ہمیشہ کے لیے تاریخ کا حصہ بنا دیا۔ نئی تحقیق کے مطابق ایسا تباہ کن حادثہ کائنات میں انتہائی نایاب سمجھا جاتا ہے، جو شاید اربوں برس میں ایک بار پیش آتا ہے۔





