فیصل آباد(پاک ترک نیوز ) پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے پر مذاکرات جاری ہیں، جو جلد حتمی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک سرمایہ کاری معاہدے کو جلد مکمل کرنے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔ٹموتھی کین نے کہا کہ پاکستانی کاروباری افراد کی صلاحیتیں قابلِ تعریف ہیں، تاہم آسٹریلیا پاکستانی مصنوعات کے معیار میں بہتری کے لیے تعاون کرے گا تاکہ آسٹریلوی منڈی میں پاکستانی برآمدات میں اضافہ ہوسکے۔
انہوں نے پاکستان کے زرعی شعبے کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے ساتھ جانوروں کی جینیات، پانی کے بہتر انتظام اور فصلوں کی پیداوار میں اضافے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کر رہا ہے۔آسٹریلوی ہائی کمشنر نے یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ یونیورسٹی کی تقریباً 40 فیصد فیکلٹی کسی نہ کسی انداز میں آسٹریلیا سے منسلک ہے۔انہوں نے کہا کہ اس تعاون کے باوجود پاکستان آسٹریلیا سے زرعی اجناس درآمد کر رہا ہے اور گزشتہ ایک دہائی کے دوران ایسی درآمدات کا حجم دوگنا ہوچکا ہے۔ پاکستان کی زرعی برآمدات بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری میں اضافے کی ضرورت ہے۔
ٹموتھی کین کے مطابق دواسازی، تعلیم اور فنی تربیت کے شعبوں میں بھی پاکستان کے لیے عالمی سطح پر وسیع مواقع موجود ہیں، جبکہ آسٹریلیا پاکستان کی کاروباری صلاحیتوں کو مزید ترقی دینے کے لیے تعاون جاری رکھنا چاہتا ہے۔












