راولپنڈی(پاک ترک نیوز) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ قومی سلامتی اولین ترجیح ہے، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کے شرکاء نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا جہاں شرکاء کو پاکستان کی علاقائی اور اندرونی سکیورٹی صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کے وفد نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ملاقات کی، فیلڈ مارشل نے شرکاء کو خطے کی صورتحال، سرحد پار دہشتگردی اور ہائبرڈ خطرات کے حوالے سے بتایا، خطے کی بدلتی صورتحال اور جیو پولیٹیکل چیلنجز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ شرکاء کو سمگلنگ، انسداد منشیات اور ملکی سلامتی کیلئے خطرناک جرائم کے خلاف کاروائیوں سے بھی آگاہ کیا گیا، سرحدی انتظامی امور، غیر ملکیوں کی واپسی کے حوالے سے اقدامات بارے بتایا گیا، ملکی مفاد کے تحفظ اور امن کیلئے اٹھائے گئےاقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔
آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ورکشاپ کے شرکاء میں پارلیمنٹیرینز، سول و فوجی افسران، تعلیمی ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندے شامل تھے، پاک فوج ملکی یکجہتی، سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کیلئے پرعزم ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کے تحفظ کیلئے ادارے پرعزم ہیں، معرکہ حق میں افواجِ پاکستان کی کارکردگی سے ملک کا وقار بلند ہوا، پاکستان ایک اہم ملک ہے، اپنا مقام ضرور پائے گا، قوم کی اصل طاقت قومی وحدت میں ہے، دشمن کے تمام مذموم عزائم مل کر ناکام بنائیں گے۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ ہر شہری کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے، پاکستان کی علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، پائیدار امن و ترقی کے لئے ادارہ جاتی تعاون ضروری ہے۔
سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ مسلح افواج، خفیہ اور معلومات فراہم کرنے والے ادارے ان تمام چیلنجز کا پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے جواب دے رہے ہیں، مسلح افواج اور ادارے ملکی سلامتی کیلئے پرعزم ہیں، پاکستان دنیا میں اپنا بہترین مقام حاصل کررہا ہے اور کرتا رہے گا، ہماری قوت قومی اتحاد اور اتفاق سے جڑی ہے، ہم دشمنوں کے ناپاک ارادوں کو انشاء اللہ ناکام بنا دیں گے۔
فیلڈ مارشل نے مزید کہا کہ پاک فوج ان مقاصد پر کسی بھی صورتحال میں سمجھوتا نہیں کرے گی، پاک فوج وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی، امن، استحکام اور خوشحالی کیلئے مشترکہ کوششیں بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔












