ہفتہ , 24 اکتوبر , 2026
  • لاگ ان کریں
پاک ترک نیوز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

فیلڈ مارشل کی تہران موجودگی،بڑے بریک تھرو کا امکان

5 مہینے پہلے
A A
Field Marshal's presence in Tehran, possibility of major breakthrough
Share on Facebookwhatsapp

تہران ( پاک ترک نیوز)
امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ۔ ایک طرف واشنگٹن معاہدے کے لیے پُرامید دکھائی دیتا ہے، تو دوسری جانب تہران محتاط انداز میں مذاکرات کو آگے بڑھا رہا ہے۔ پاکستان، قطر اور خطے کی دیگر اہم قوتیں بھی پسِ پردہ سفارتی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ سوال یہی ہے کہ کیا اس بار واقعی کوئی بڑا امن معاہدہ ہونے جا رہا ہے یا یہ کوششیں بھی ماضی کی طرح تعطل کا شکار ہو جائیں گی؟


ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں۔ 2015 میں جوہری معاہدہ ہوا، مگر بعد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کو اس معاہدے سے الگ کر لیا، جس کے بعد پابندیاں، دھمکیاں اور خطے میں تناؤ مسلسل بڑھتا رہا۔ اب ایک مرتبہ پھر سفارتی دروازے کھلتے دکھائی دے رہے ہیں، لیکن اس بار مذاکرات صرف جوہری پروگرام تک محدود نہیں بلکہ جنگ بندی، علاقائی استحکام اور آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملات بھی زیرِ بحث ہیں۔
حالیہ پیش رفت میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا تہران پہنچنا اسی سلسلے کی اہم کڑی سمجھا جا رہا ہے۔ ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی نے ان کا استقبال کیا جبکہ ایرانی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتوں میں ایران امریکا مذاکرات، خطے کی سلامتی اور سفارتی امکانات پر گفتگو متوقع ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اعتراف کیا کہ واشنگٹن پاکستان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور مذاکراتی عمل میں اسلام آباد ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ پاکستان کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی تصور کی جا رہی ہے کیونکہ بیک وقت ایران، امریکا اور خلیجی ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات رکھنا آسان نہیں۔
قطر ماضی میں بھی امریکا اور طالبان، حماس اور اسرائیل سمیت کئی حساس مذاکرات میں ثالثی کرتا رہا ہے۔ اس بار بھی قطری وفد تہران میں موجود ہے اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطے جاری ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ قطر جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے اور اعتماد سازی کے اقدامات پر پیش رفت چاہتا ہے۔


ایران بظاہر مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ ہے، مگر اس کے مؤقف میں سختی اب بھی موجود ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ انتہائی افزودہ یورینیم امریکا کے حوالے کرنا ناممکن ہے۔ مذاکرات کا محور فوری طور پر جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی ہے۔ جوہری پروگرام پر تفصیلی بات چیت ابھی مرکزی ایجنڈا نہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات اب بھی گہرے اور نمایاں ہیں۔
یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ تہران کسی فوری دباؤ میں مکمل سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں، بلکہ مرحلہ وار سفارت کاری چاہتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سخت لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
امریکا یہ بھی جانتا ہے کہ مکمل تصادم عالمی معیشت، تیل کی سپلائی اور خطے کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، اسی لیے سفارت کاری کا راستہ کھلا رکھا گیا ہے۔ فی الحال صورتحال “امید اور احتیاط” کے درمیان کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ چند اہم نکات اس کا تعین کریں گے:ایران کس حد تک اپنے جوہری پروگرام پر لچک دکھاتا ہے۔ امریکا پابندیوں میں کتنی نرمی پر تیار ہوتا ہے۔ ۔اسرائیل اور خلیجی ممالک اس ممکنہ معاہدے پر کیا ردعمل دیتے ہیں۔ ۔پاکستان اور قطر کی ثالثی کتنی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
اگر کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے۔ عالمی تیل مارکیٹ مستحکم ہو سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز دوبارہ مکمل طور پر محفوظ تجارتی راستہ بن سکتی ہے۔ پاکستان کی سفارتی اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے۔
لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو خطے میں دوبارہ عسکری کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ ۔تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔
لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو خطے میں دوبارہ عسکری کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ ۔تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔
اس بار حالات ماضی سے مختلف ضرور ہیں کیونکہ امریکا، ایران، قطر اور پاکستان سب بیک وقت سفارتی راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ تاہم اعتماد کا فقدان اب بھی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایران فوری طور پر اپنے جوہری مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں جبکہ امریکا بھی سخت شرائط کے بغیر معاہدہ نہیں چاہتا۔ ایسے میں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ امن معاہدہ بالکل قریب ہے، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ خطہ ایک اہم سفارتی موڑ پر کھڑا ہے جہاں آنے والے چند ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی آئندہ سیاست کا رخ متعین کر سکتے ہیں۔

موضوعات : #fieldmarshalasimmunirusiran
ShareSend

متعلقہ خبریں

پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
اہم ترین

پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

19 اکتوبر , 2026
وزیراعظم شہباز شریف سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ملاقات
تازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ملاقات

30 ستمبر , 2026
Field Marshal Asim Munir meets Saudi Defense Minister.
تازہ ترین

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع سے ملاقات

26 ستمبر , 2026
Field Marshal visits Peshawar Corps Headquarters; vows to ensure lasting peace and stability in the country.
تازہ ترین

فیلڈ مارشل کا پشاور کور ہیڈکوارٹرز کا دورہ، ملک میں دیرپا امن اور استحکام یقینی بنانے کا عزم

22 ستمبر , 2026
Field Marshal Syed Asim Munir's visit to Pakistan Ordnance Factories, Wah.
تازہ ترین

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹریز واہ کا دورہ

29 اگست , 2026
A positive role by the youth against social media propaganda is essential Field Marshal Asim Munir.
تازہ ترین

سوشل میڈیا پروپیگنڈے کے خلاف نوجوانوں کا مثبت کردار ضروری ہے: فیلڈ مارشل عاصم منیر

28 اگست , 2026
اگلی خبر
New York Mayor Orders More Steps to Protect Immigrants

میئر نیویارک کا تارکین وطن کے تحفط کیلئے مزید اقدامات کرنے کا حکم

یہ بھی پڑھیں

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں کوئی خفیہ نکات نہیں، دفتر خارجہ

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں کوئی خفیہ نکات نہیں، دفتر خارجہ

23 اکتوبر , 2026
اسحاق ڈار کی استنبول میں مصری اور جرمن وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

اسحاق ڈار کی استنبول میں مصری اور جرمن وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

23 اکتوبر , 2026
تشددہوا نہ زیادتی ،غیر ملکی خاتون ڈیانا اپنے بیان سے مکر گئی،ملزموں کو معاف کرنے کا اعلان

تشددہوا نہ زیادتی ،غیر ملکی خاتون ڈیانا اپنے بیان سے مکر گئی،ملزموں کو معاف کرنے کا اعلان

23 اکتوبر , 2026
Scottish Minister Humza Yousaf’s book Under Fire The harrowing tale of a family trapped in Gaza.

اسکاٹس منسٹر حمزہ یوسف کی کتاب انڈر فائر غزہ میں پھنسے خاندان کی اذیت ناک داستان

23 اکتوبر , 2026
نیشنل بینک کے سی ای او کی سیلری 95لاکھ ،3کروڑ کی انشورنس ،گھر کے کرائے کیلئے10لاکھ روپے ماہانہ

نیشنل بینک کے سی ای او کی سیلری 95لاکھ ،3کروڑ کی انشورنس ،گھر کے کرائے کیلئے10لاکھ روپے ماہانہ

23 اکتوبر , 2026

ہمارے بارے میں

"پاک ترک نیوز" ایک غیر جانب دار اردو نیوز ویب سائٹ ہے جو پاکستان، ترکی اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تجزیات، اور فیچر مضامین کو اردو قارئین تک بروقت اور مستند انداز میں پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ ہم پاک ترک تعلقات، عالمی سیاست، معیشت، ثقافت، اور سوشل ایشوز کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں، تاکہ قارئین باخبر، با شعور اور با اثر رہیں۔

  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • ترکک
  • دنیا
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی
  • اعلانِ لاتعلقی
  • رابطہ کریں

ہمارا سوشل میڈیا فالو کریں

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔