کیلیفورنیا ( پاک ترک نیوز) امریکی خلائی ادارے ناساکے نئے سربراہ خلائی ایجنسی کے اہداف کو نئی شکل دے رہے ہیں۔جن میں مریخ تک سفر اور چاند پر بستی تعمیر کرنےکے حوالے سےمستقبل کے منصوبے شامل ہیں۔
گذشتہ روز یہاں ایک تقریب میں ان منصوبوں کی نقاب کشائی کرتے ہوئےناسا کے ایڈمنسٹریٹر جیرڈ آئزاک مین نے اپنے مستقبل کے وژ ن کا ذکر کیا جس میں چاند پر بیس کے لیے نئے بنائے گئے منصوبے شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ خلائی ایجنسی نے طویل عرصے سے خلابازوں کے رہنے اور مستقل طور پر کام کرنے کے لیے چاند پر ایک بستی بنانے پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔تاہم اس مرتبہ پہلی بار ناسا نے اس طرح کی کوششوں کے لیے ٹائم لائن اور روڈ میپ کا انکشاف کیا ہے۔
ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جیرڈ آئزک مین نے اگنی شن نامی تقریب میں کہا کہ چاندبیس راتوں رات ظاہر نہیں ہوگا۔ہم اگلے سات سالوں میں تقریبا 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے اور اسے درجنوں مشنوں کے ذریعےتعمیر کریں گے۔
دسمبر میں عہدہ سنبھالنے والے ناسا کے نئے ڈائریکٹر کی طرف سے منگل کو اعلان کردہ کچھ دیگر پروجیکٹس کی ڈیڈ لائن بظاہر بہت مشکل دکھائی دیتی ہے۔ خاص طور پر ایک بالکل نئی نیوکلیئر طاقت سے چلنے والی مریخ گاڑی جو ایجنسی کو 2028 تک لانچ کرنے کی امید ہے ۔اور یہ یقیناً خلائی سفر کی دنیا میں بجلی کی سی تیز رفتار ٹائم لائن ہے۔
مزید براںان اختراعات کی مالی اعانت اور ان کو عملی جامہ پہنانے کا راستہ بڑی حد تک غیر واضح ہے اور یہ بہت سی تبدیلیوںکے بغیر ممکن نہیں۔ تاہم مستقبل کے یہ منصوبے ناسا کی نئی انتظامیہکے تیار کردہ تبدیلی کے منصوبوں کے بارے میں کلیدی بصیرت پیش کرتے ہیں۔ جس کا مقصد ناسا کے سائنسی اور انسانی خلائی پرواز کے حصول میں عجلت کا احساس پیدا کرنا ہے۔












