بیجنگ ( پاک ترک نیوز) چین نے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی جانب سے متعدد بڑی چینی کمپنیوں کو فوج سے منسلک اداروں کی فہرست میں شامل کرنے کے اقدام پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے اسے دوطرفہ تعلقات کے لیے نقصان دہ قرار دے دیا۔
چینی وزارت تجارت کا کہناہے چین امریکی اقدام پر شدید عدم اطمینان اور "سخت مخالفت” کا اظہار کرتا ہے۔ وزارت نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اپنے غلط اقدامات واپس لے اور چین اور امریکا کے درمیان تعمیری اور مستحکم تعلقات کی راہ اختیار کرے۔
پینٹاگون کی تازہ فہرست میں چین کی کئی بڑی ٹیکنالوجی اور صنعتی کمپنیاں شامل کی گئی ہیں، جن میں ای کامرس کمپنی علی بابا، سرچ انجن کمپنی بیدو، الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں بی وائی ڈی اور این ائی او شامل ہیں ، دنیا کے بڑے سولر پینل ساز ادارے ٹرینا سولر اور جے اے سولر کو بھی فہرست میں شامل کیا گیا۔
امریکا کا مؤقف ہے کہ یہ کمپنیاں چین کی عسکری اور صنعتی صلاحیتوں کو بڑھانے میں معاون کردار ادا کر رہی ہیں، جس کے باعث انہیں نگرانی کی فہرست میں رکھا گیا ہے۔
امریکی قانون کے تحت 2027 سے امریکی محکمہ دفاع ان فہرست میں شامل کمپنیوں کے ساتھ براہِ راست معاہدے نہیں کر سکے گا اور نہ ہی تیسرے فریق کے ذریعے ان کی مصنوعات یا خدمات خرید سکے گا۔
چینی وزارت تجارت نے خبردار کیا ہے کہ اگر چینی کمپنیوں کے ساتھ غیرمنصفانہ سلوک جاری رہا تو بیجنگ مضبوط اور فیصلہ کن جوابی اقدامات کرے گا۔












