کراچی ( پاک ترک نیوز) کراچی کے مقتول تاجر میر رضا کے اہلِ خانہ اور ان کے وکیل جبران ناصر ایڈووکیٹ نے قبر کشائی کا عمل رکوا دیا اور نئے میڈیکل بورڈ کی تشکیل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
جبران ناصر نے پولیس سرجن کو ہنگامی خط ارسال کرتے ہوئے قبر کشائی کے لیے تشکیل دیے گئے نئے میڈیکل بورڈ پر اعتراض اٹھایا۔ خط میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ حیدرآباد کی جانب سے میڈیکل بورڈ کی تبدیلی کا حکم غیر قانونی ہے اور اس سے شواہد ضائع یا تبدیل ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے سوال اٹھایا کہ رات کے وقت میڈیکل بورڈ کیوں تبدیل کیا گیا، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ حیدرآباد کو اس معاملے میں کیا اختیار حاصل ہے، جبکہ میڈیکل بورڈ میں کراچی کے ماہرین کو شامل کیا جانا چاہیے تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تفتیشی افسر نے آٹھ روز گزرنے کے باوجود مدعی کا بیان ریکارڈ نہیں کیا، جبکہ گولی کا خول بھی آٹھ دن تک نہیں ملا اور اچانک گزشتہ روز برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: میر رضا علی کی موت معمہ بن گئی، والد نے تحقیقات پر سنگین سوالات اٹھا دیے
مقتول میر رضا کے والد کا کہنا تھا کہ انہیں میڈیکل بورڈ کی تبدیلی کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر کس چیز کو چھپایا جا رہا ہے اور کس کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جبران ناصر نے اپنے خط میں خبردار کیا کہ اگر غیر قانونی قرار دیے گئے میڈیکل بورڈ کے ذریعے قبر کشائی کی گئی تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔












