اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان کے ڈیجیٹل کریئیٹرز کے لیے بجٹ میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس نے یوٹیوبرز، ٹک ٹاکرز، انسٹاگرام انفلوئنسرز اور بلاگرز کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ وفاقی حکومت نے ڈیجیٹل معیشت کو باقاعدہ ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے نئے اقدامات تجویز کر دیے ہیں۔
قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ ملک میں آن لائن ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے اسے باقاعدہ معاشی نظام کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے کمائی کرنے والوں پر ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
مجوزہ نظام کے مطابق یوٹیوب، ٹک ٹاک، انسٹاگرام، فیس بک اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن پر ادائیگی کے وقت ہی ٹیکس کی کٹوتی کی جائے گی۔ اس عمل میں بینک بھی اہم کردار ادا کریں گے اور رقوم کی منتقلی کے دوران مقررہ شرح کے مطابق ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ڈیجیٹل معیشت کو دستاویزی شکل دینا اور قومی محصولات میں اضافہ کرنا ہے۔ حکام کے مطابق بڑی تعداد میں نوجوان سوشل میڈیا کے ذریعے باقاعدہ آمدن حاصل کر رہے ہیں، اس لیے ان کی آمدن کو بھی ٹیکس نظام کے دائرے میں لانا ضروری ہے۔
اگرچہ سوشل میڈیا آمدن پر ٹیکس سے متعلق تجاویز ماضی میں بھی سامنے آتی رہی ہیں، تاہم اس بار اسے عملی طور پر نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب ڈیجیٹل کریئیٹرز کا کہنا ہے کہ حکومت کو ایسا شفاف اور آسان نظام متعارف کرانا چاہیے جس سے ٹیکس کی ادائیگی تو ممکن ہو، لیکن آن لائن کام کرنے والوں کو غیر ضروری پیچیدگیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ نیا ٹیکس نظام ڈیجیٹل کریئیٹرز کے لیے اضافی بوجھ ثابت ہوگا یا پھر پاکستان کی بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل اکانومی کو مزید منظم اور مستحکم بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔












