اسلام آباد (پاک ترک نیوز ) پاکستان کے انفراسٹرکچر کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر ایم-13 خاریان–راولپنڈی موٹروے منصوبہ ملک کے شمالی علاقوں کے لیے نئی سفری راہداری فراہم کرے گا، جس سے لاہور اور اسلام آباد کے درمیان سفر تقریباً ایک گھنٹہ کم ہو جائے گا۔
خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی نگرانی اور ادارہ جاتی تعاون سے اس منصوبے کو ازسرنو ترتیب دیا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت 117.2 کلومیٹر طویل، چھ رویہ جدید موٹروے تعمیر کی جائے گی، جو شمالی پاکستان میں ٹرانسپورٹ اور مال برداری کے نظام میں نمایاں بہتری لائے گی۔
ذرائع کے مطابق نئی موٹروے کے ذریعے لاہور اور راولپنڈی/اسلام آباد کے درمیان موجودہ سفر کا فاصلہ تقریباً 100 کلومیٹر کم ہو جائے گا، جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ ایندھن کے اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
یہ بھی پڑھیں: میسی کے والد کی جھوٹی خبر دینے والی ٹی وی پریزینٹر مستعفی
منصوبے کی ایک اہم خصوصیت کالر کہار کے سالٹ رینج کے خطرناک اور حادثات کا شکار حصے کو بائی پاس کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے تین جدید سرنگیں تعمیر کی جائیں گی، جن سے ٹریفک حادثات میں کمی اور بھاری مال بردار گاڑیوں کی محفوظ آمدورفت ممکن ہوگی۔
حکام کے مطابق ایم-13 موٹروے دراصل ایک بڑے مربوط شاہراہی نیٹ ورک کا حصہ ہے۔ ایس آئی ایف سی کی مداخلت سے ایم-12 سیالکوٹ–خاریان موٹروے پر اکتوبر 2024 سے بند تعمیراتی کام فروری 2026 میں دوبارہ شروع کر دیا گیا، جبکہ ایم-11 لاہور–سیالکوٹ موٹروے کو بھی چار رویہ سے بڑھا کر چھ رویہ کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے۔












