ڈھاکا(پاک ترک نیوز )ورلڈ بینک نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث خوراک، ایندھن اور کھاد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پیدا ہونے والے معاشی دباؤ سے نمٹنے کے لیے بنگلہ دیش کے لیے 1.1 ارب ڈالر کی ہنگامی مالی امداد کی منظوری دے دی ۔
ورلڈ بینک کے مطابق اس امدادی پیکج کا مقصد ملک میں خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانا، کمزور اور غریب طبقے کی مدد کرنا، چھوٹے کاروباروں کو سہارا دینا اور معاشی استحکام برقرار رکھنا ہے۔
دوسری جانب بنگلہ دیش اپنی زرمبادلہ کی صورتحال بہتر بنانے اور توانائی کی درآمدی لاگت کے باعث عوامی مالیات پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سمیت دیگر ترقیاتی شراکت داروں سے بھی اضافی مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایم-13 موٹروے منصوبہ، لاہور سے اسلام آباد کا سفر ایک گھنٹہ کم
ورلڈ بینک کے امدادی پیکج میں دو منصوبے شامل ہیں۔ پہلے منصوبے ایمرجنسی سپورٹ فار فوڈ سیکیورٹی پراجیکٹ کے تحت 300 ملین ڈالر فراہم کیے جائیں گے، جن سے آئندہ دھان (چاول) کی فصلوں کے لیے 6 لاکھ میٹرک ٹن کھاد درآمد کی جائے گی۔ بنگلہ دیش اپنی 85 فیصد سے زائد کھاد درآمد کرتا ہے، جس کی وجہ سے وہ عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں سے شدید متاثر ہوتا ہے۔
ورلڈ بینک کے بنگلہ دیش اور بھوٹان کے ڈویژن ڈائریکٹر جین پیسمے نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث خوراک، کھاد اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں نے بنگلہ دیش کی معیشت، خصوصاً چھوٹے کسانوں اور غریب خاندانوں کو شدید متاثر کیا ہے۔اس منصوبے سے 14 لاکھ ہیکٹر زرعی اراضی پر چاول کی کاشت میں مدد ملے گی۔
امدادی پیکج کے تحت باقی 713 ملین ڈالر کانٹنجنٹ ایمرجنسی ریسپانس پراجیکٹ کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جن سے متاثرہ خاندانوں کو نقد امداد، روزگار کی بحالی، چھوٹے کاروباروں کی معاونت اور ایندھن و توانائی کی درآمدات کی مالی اعانت کی جائے گی۔یہ رقم صحت، خوراک کی ترسیل، بجلی اور پانی جیسی بنیادی خدمات کو جاری رکھنے میں بھی استعمال ہوگی۔
ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ یہ مالی امداد بنگلہ دیش کو معاشی جھٹکوں سے فوری طور پر نمٹنے، روزگار اور شہریوں کے معاشی تحفظ کو برقرار رکھنے اور ضروری عوامی خدمات کی فراہمی یقینی بنانے میں مدد دے گی۔












