یروشلم (پاک ترک نیوز )اسرائیلی حکام نے دو برطانوی ارکان پارلیمنٹ اور اسکاٹ لینڈ کی ایک رکن اسمبلی کو آٹھ گھنٹے تک حراست میں رکھنے اور پوچھ گچھ کے بعد مغربی کنارے میں داخل ہونے سے روک دیا۔
برطانوی رکن پارلیمنٹ لارا برڈ، کلائیو لیوس اور اسکاٹش گرینز کی رکن اسمبلی کیٹ نیونز کے مطابق وہ پیر کے روز اردن سے مغربی کنارے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم اسرائیلی حکام نے انہیں روک لیا، پوچھ گچھ کی اور بالآخر واپس بھیج دیا۔
لارا برڈ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں کہا کہ ان کے وفد کا مقصد ان فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا تھا جنہیں اپنی ہی زمین پر زیتون کی فصل کی کٹائی کے دوران حملوں کا سامنا ہے۔
یہ وفد ترقی پسند عالمی تنظیم کے تحت خطے کے دورے پر تھا، جس میں سابق برطانوی رکن پارلیمنٹ سیم ٹیری اور باسک سینیٹ کے ایک سابق رکن سمیت 23 افراد شامل تھے۔
برطانوی رکن پارلیمنٹ کلائیو لیوس نے کہا کہ وفد کے ارکان کے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا جیسے انہوں نے کوئی غلط کام کیا ہو۔ ان کے مطابق انہیں معلوم تھا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں داخلے کی کوشش پر حراست، پوچھ گچھ اور واپسی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم ان کا مقصد فلسطینی عوام کی حمایت اور ان کے خلاف ہونے والی مبینہ ناانصافی اور تشدد کو اجاگر کرنا تھا۔
اسکاٹش رکن اسمبلی کیٹ نیونز نے اس تجربے کو خوف ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفد بحفاظت واپس نکلنے میں کامیاب رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کو اپنے اہل خانہ تک پہنچنے یا معمولات زندگی جاری رکھنے کے لیے جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وفد کا تجربہ اس کا محض ایک چھوٹا سا حصہ تھا۔
برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے پارلیمنٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے ارکان پارلیمنٹ کو مغربی کنارے میں داخلے سے روکنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت نے یہ معاملہ اسرائیلی حکام کے سامنے اٹھایا ہے اور متاثرہ ارکان سے بھی رابطہ کرکے انہیں معاونت کی پیش کش کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ برطانوی ارکان پارلیمنٹ کو ملک کے اندر اور بیرون ملک اپنے فرائض انجام دینے کے لیے آزادانہ رسائی حاصل ہونی چاہیے۔
اسکاٹش نیشنل پارٹی کے ترجمان نے بھی فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ اس معاملے پر اسرائیلی سفارت خانے سے مؤقف طلب کیا گیا ہے۔












