لاہور( پاک ترک نیوز) دنیا بھر میں جہاں الیکٹرک گاڑیوں کو مستقبل کی ٹرانسپورٹ قرار دیا جا رہا ہے، وہیں امریکی طالبعلموں نے ایک ایسی انوکھی گاڑی تیار کی ہے جو روایتی ایندھن پر چلتے ہوئے بھی حیران کن حد تک کم فیول استعمال کرتی ہے۔ محض ایک لیٹر ایتھنول پر سینکڑوں میل کا سفر طے کرنے والی اس گاڑی نے انجینئرنگ کی دنیا کو حیران کر دیا۔
امریکی ریاست یوٹاہ میں واقع بریگھم ینگ یونیورسٹی کے طالبعلموں کی تجرباتی گاڑی کو سپر مائلیج کا نام دیا گیا ،یہ گاڑی ایک گیلن ایندھن میں 2150 میل تک کا فاصلہ طے کرسکتی ہے ۔ اس میں روایتی گاڑیوں کے تمام ماڈرن فیچرز کو شامل نہیں کیا گیا تاکہ وہ کم ایندھن میں زیادہ فاصلہ طے کرسکے۔اس میں ایک ڈرائیور کے بیٹھنے کی جگہ ہے ۔گاڑی کو انتہائی ہلکے کاربن فائبر میٹریل سے تیار کیا گیا ۔
اس گاڑی کی سب سے حیران کن بات اس کی غیرمعمولی فیول ایفیشنسی ہے۔ ۔ اس کا ایروڈائنامک ڈیزائن ہوا کی مزاحمت کو کم کرتا ہے جس کے نتیجے میں توانائی کا ضیاع نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے۔گاڑی کا فیول ٹینک بھی عام گاڑیوں کے مقابلے میں انتہائی چھوٹا ہے، جس میں صرف 30 ملی لیٹر ایتھنول ایندھن ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ اتنی معمولی مقدار میں ایندھن کے باوجود یہ گاڑی تقریباً 20 میل تک کا سفر طے کر سکتی ہے۔ جس کے بعد دوبارہ ایندھن بھرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ گاڑی ایندھن کی بچت کے میدان میں ایک غیرمعمولی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔سپر مائلیج کو خاص طور پر شیل ایکو میراتھون نامی عالمی مقابلے کے لیے ڈیزائن کیا گیا، جہاں مختلف ٹیمیں کم سے کم ایندھن کے ساتھ زیادہ سے زیادہ فاصلہ طے کرنے والی گاڑیاں پیش کرتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق گاڑی کی شاندار کارکردگی کے پیچھے اس کا ہلکا وزن، خصوصی ڈیزائن اور کم رفتار بنیادی عوامل ہیں۔ سپر مائلیج کی زیادہ سے زیادہ رفتار صرف 23 میل فی گھنٹہ ہے، جس کا مقصد رفتار نہیں بلکہ کم سے کم ایندھن کے ساتھ زیادہ سے زیادہ فاصلہ طے کرنا ہے۔اسی مقصد کے تحت گاڑی میں عام کاروں کی طرح ایئر کنڈیشننگ، تفریحی نظام، اضافی نشستیں اور دیگر جدید سہولیات شامل نہیں کی گئیں تاکہ وزن کم سے کم رکھا جا سکے۔
طلبا کا کہنا ہے ہمارا مقصد مستقبل کی توانائی بچانے والی ٹیکنالوجیز کے لیے نئے امکانات تلاش کرنا ہے۔اگرچہ یہ گاڑی روزمرہ استعمال کے لیے موزوں نہیں، لیکن اس کی تیاری نے ثابت کر دیا ہے کہ انجینئرنگ اور ڈیزائن میں جدت کے ذریعے ایندھن کی کھپت کو حیران کن حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسی تحقیق آٹوموبائل انڈسٹری کو زیادہ ماحول دوست اور کم توانائی استعمال کرنے والی گاڑیوں کی تیاری میں مدد دے سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں تعلیمی ادارے اور انجینئرنگ ٹیمیں توانائی کے مؤثر استعمال پر مبنی منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔
صرف 49 کلو وزن، چند ملی لیٹر ایندھن اور سینکڑوں میل کا سفر۔ امریکی طالبعلموں کی تیار کردہ سپر مائلیج گاڑی اس بات کا ثبوت ہے کہ مستقبل کی ٹرانسپورٹ صرف زیادہ طاقتور نہیں بلکہ زیادہ ذہین اور زیادہ مؤثر بھی ہو سکتی ہے۔












