لاہور (پاک ترک نیوز) دنیا بھر میں سمندروں، دریاؤں اور ساحلی علاقوں کو پلاسٹک کے کچرے سے پاک کرنے کے لیے رضاکاروں کی بڑی مہم کے دوران صرف ایک دن میں 13 لاکھ سے زائد پلاسٹک بوتلیں جمع کرلی گئیں۔ماحولیاتی تنظیم اوشن کنزروینسی کے مطابق 2025 میں ہونے والی انٹرنیشنل کوسٹل کلین اپ مہم میں تقریباً 6 لاکھ 30 ہزار رضاکاروں نے حصہ لیا، جنہوں نے دنیا بھر میں 15 ہزار میل سے زائد ساحلی پٹی اور آبی گزرگاہوں سے تقریباً ایک کروڑ 39 لاکھ اشیا پر مشتمل کچرا صاف کیا۔
اعداد و شمار کے مطابق پلاسٹک کی بوتلیں سب سے زیادہ جمع کی جانے والی اشیا میں شامل رہیں۔ رضاکاروں نے 12 لاکھ سے زائد سگریٹ کے ٹوٹے، 8 لاکھ 85 ہزار پلاسٹک بوتلوں کے ڈھکن، 5 لاکھ 81 ہزار پلاسٹک شاپنگ بیگز اور 10 لاکھ سے زائد دیگر پلاسٹک بیگز اور کھانے پینے کے پلاسٹک کنٹینرز بھی جمع کیے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پلاسٹک کی بوتلیں دنیا میں سب سے زیادہ ری سائیکل ہونے والی اشیا میں شامل ہیں، اس کے باوجود ان کی بڑی تعداد سمندروں اور دریاؤں میں پہنچ رہی ہے، جو پلاسٹک کی ضرورت سے زیادہ پیداوار اور ناقص ویسٹ مینجمنٹ کی نشاندہی کرتی ہے۔
اوشن کنزروینسی کی ماہر اینجا برینڈن کے مطابق ری سائیکلنگ تک رسائی بڑھانے، بوتلوں کے ڈپازٹ ریٹرن نظام اور دوبارہ استعمال و ری فل کی سہولیات میں سرمایہ کاری سے سمندروں کو پلاسٹک آلودگی سے بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پلاسٹک کا کچرا صرف ساحلوں کی خوبصورتی متاثر نہیں کرتا بلکہ سمندری حیات کے لیے بھی جان لیوا ثابت ہورہا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ایک الباٹروس پرندہ پلاسٹک کی پوری بوتل نگلنے کے باعث ہلاک ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: غم زدہ ڈولفن کی دردناک کہانی، مردہ بچے کو کئی روز تک اپنے ساتھ لیے رہی
اوشن کنزروینسی کے مطابق اس عالمی صفائی مہم کا آغاز 40 سال قبل صرف 2 ہزار 800 رضاکاروں سے ہوا تھا۔ اب تک 166 ممالک اور خطوں کے تقریباً ایک کروڑ 97 لاکھ افراد اس مہم کا حصہ بن چکے ہیں اور مجموعی طور پر 43 کروڑ 90 لاکھ سے زائد کچرے کی اشیا جمع کی جاچکی ہیں، جن کا مجموعی وزن تقریباً ایک لاکھ 84 ہزار ٹن ہے۔












