واشنگٹن (پاک ترک نیوز) ناسا اور امریکی کمپنی ایرووائرومنٹ نے مریخ پر تین نئے ہیلی کاپٹر بھیجنے کے منصوبے پر کام تیز کر دیا ہے۔ایرووائرومنٹ کے مطابق کمپنی کو ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری سے مریخ کے لیے تین ہیلی کاپٹرز کی مشترکہ ڈیزائننگ اور تیاری کا معاہدہ مل گیا ہے، تاہم معاہدے کی مالی مالیت ظاہر نہیں کی گئی۔یہ تینوں ہیلی کاپٹر اسکائی فال مشن کا حصہ ہوں گے، جو 2028 کے آخر میں مریخ کے لیے روانہ ہونے والے ناسا کے اسپیس ری ایکٹر ون فریڈم مشن کے ساتھ بھیجے جائیں گے۔
اس مشن کا بنیادی مقصد مریخ پر جوہری برقی پروپلشن کی آزمائش بھی ہے۔مریخ پر اڑنے والے نئے ہیلی کاپٹر کیسے ہوں گے؟اسکائی فال کے ہیلی کاپٹرز ناسا کے تاریخی انجینیوٹی ہیلی کاپٹر کی جدید اور قدرے بڑی شکل ہوں گے، جس نے 2021 میں پرسیورنس روور کے ذریعے مریخ پر پہلی پرواز کرکے تاریخ رقم کی تھی۔نئے ہیلی کاپٹرز میں بڑے روٹرز نصب کیے جائیں گے تاکہ وہ زیادہ وزنی سائنسی آلات لے جا سکیں۔ان میں گراؤنڈ پینیٹریٹنگ ریڈار بھی نصب ہوگا، جو مریخ کی سطح کے نیچے موجود برف کی تلاش کرے گا۔ناسا کے مطابق یہ ریڈار مریخ کی سطح کے تقریباً 12 سے 60 سینٹی میٹر نیچے تک جائزہ لے سکے گا۔ہیلی کاپٹرز میں بڑے سولر پینلز اور ایسا مواصلاتی نظام بھی ہوگا جس کے ذریعے وہ مریخ کے مدار میں موجود ریلے خلائی جہازوں سے براہِ راست رابطہ کرسکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کا 40 ہزار ٹن وزنی ’ڈرون کیریئر‘ آخری سمندری آزمائش میں داخل
انجینیوٹی کو مواصلات کے لیے پرسیورنس روور پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔ممکنہ طور پر نئے ہیلی کاپٹرز میں ہائی ریزولوشن کیمرے، تابکاری ناپنے والا ڈوزیمیٹر اور درجہ حرارت سینسرز بھی شامل ہوں گے۔ہر ہیلی کاپٹر کا وزن تقریباً 2.5 سے 2.7 کلوگرام ہوگا، جبکہ انجینیوٹی کا وزن تقریباً 1.8 کلوگرام تھا۔مریخ پر ہیلی کاپٹر اتارا نہیں، ’گرایا‘ جائے گا!اسکائی فال مشن کی سب سے حیران کن خصوصیت اس کا لینڈنگ طریقہ ہے۔انجینیوٹی کو پرسیورنس روور مریخ کی سطح تک لے کر گیا تھا اور پھر روور نے اسے زمین پر اتارا تھا۔لیکن اسکائی فال کے تینوں ہیلی کاپٹرز کو ایک انٹری وہیکل کے اندر مریخ تک پہنچایا جائے گا اور سطح پر براہِ راست اتارنے کے بجائے دورانِ پرواز ہی چھوڑ دیا جائے گا۔
اس منفرد طریقہ کار کو ’’اسکائی فال مینیوور‘‘ کہا جا رہا ہے۔ہیلی کاپٹر انٹری وہیکل سے نکلنے کے بعد تیزی سے نیچے آئے گا، پھر اپنے روٹرز کی مدد سے پرواز کو کنٹرول کرتے ہوئے اوپر کی جانب اٹھے گا اور منڈلانے کے بعد عمودی انداز میں مریخ کی سطح پر لینڈ کرے گا۔انجینیوٹی کے مقابلے میں بڑے روٹرز کی آزمائش کی جاچکی ہے اور ان کے سروں کی رفتار آواز سے بھی زیادہ ہونے کے باوجود مطلوبہ پرواز کی صلاحیت کا جائزہ لیا گیا ہے۔ سائنسدانوں کی نظر ایسے علاقوں پر ہے جہاں سطح کے نیچے برف موجود ہونے کے امکانات ہوں اور وہاں ہیلی کاپٹر آسانی سے سفر بھی کرسکیں۔مریخ کے شمالی نصف کرہ میں موجود آرکیڈیا پلانیٹیا کو فی الحال ڈیزائن کے لیے ایک ممکنہ حوالہ مقام کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، تاہم حتمی لینڈنگ سائٹ کا فیصلہ بعد میں ہوگا۔2027 میں ہونے والی ورکشاپس میں ممکنہ لینڈنگ سائٹس کا مزید جائزہ لیا جائے گا۔












