ٹوکیو ( پاک ترک نیوز) جاپان مریخ کے چاند فوبوس سے پہلی بار چٹانوں اور مٹی کے نمونے زمین پر لانے کے لیے خلائی مشن شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔جاپان کی خلائی تحقیقاتی ایجنسی جاکسا (JAXA) کا مشن مارشیئن مونز ایکسپلوریشن، ایم ایم ایکس فوبوس سے کم از کم 10 گرام نمونے حاصل کرے گا۔ کامیابی کی صورت میں یہ کسی مریخی چاند سے زمین پر لائے جانے والے پہلے نمونے ہوں گے۔
مشن کو مریخ تک پہنچنے میں تقریباً ایک سال لگے گا، جبکہ فوبوس کے گرد تین سال تک تحقیق اور نمونے جمع کرنے کے بعد خلائی جہاز کو زمین پر واپسی میں مزید ایک سال درکار ہوگا۔ سائنس دانوں کو توقع ہے کہ نمونے 2031 میں زمین پر پہنچ سکتے ہیں۔مشن کا ایک اہم مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ مریخ کے دونوں چاند فوبوس اور ڈیموس کیسے وجود میں آئے۔سائنس دانوں کے سامنے دو اہم نظریات ہیں۔ ایک کے مطابق مریخ سے ٹکرانے والے کسی بڑے خلائی جسم کے نتیجے میں خارج ہونے والے مادے سے یہ چاند بنے، جبکہ دوسرے نظریے کے مطابق یہ دراصل ایسے سیارچے تھے جنہیں مریخ کی کششِ ثقل نے اپنی جانب کھینچ لیا۔
مشن کے دوران فوبوس پر فرانسیسی اور جرمن خلائی اداروں کا تیار کردہ آئی ڈیفکس روور بھی اتارا جائے گا، جو تقریباً 100 دن تک سطح کا جائزہ لے گا تاکہ مرکزی خلائی جہاز کے لیے محفوظ لینڈنگ مقام کا تعین کیا جاسکے۔فوبوس پر اترنا مشن کا ایک بڑا تکنیکی چیلنج ہوگا کیونکہ اس کا رداس صرف تقریباً 11 کلومیٹر ہے اور اس کی کششِ ثقل انتہائی کم ہے۔خلائی جہاز میں جدید خودکار نیویگیشن نظام نصب ہوگا، کیونکہ زمین اور مریخ کے درمیان ریڈیو سگنل پہنچنے میں 20 منٹ تک لگ سکتے ہیں۔ اس لیے لینڈنگ، نمونے جمع کرنے اور دوبارہ پرواز کے اہم فیصلے خلائی جہاز کو خودکار طور پر کرنا ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: جاپان کا فلیش لائٹ جتنا نیا جنگی ڈرون متعارف
فوبوس کی سطح پر پہنچنے کے بعد روبوٹک بازو کے ذریعے مٹی میں ڈرل کرکے نمونے حاصل کیے جائیں گے، جبکہ نائٹروجن گیس کی مدد سے سطح کی باریک گرد بھی جمع کی جائے گی۔سائنس دانوں کو توقع ہے کہ حاصل کیے گئے نمونوں میں مریخ سے آنے والا مواد بھی شامل ہوسکتا ہے، جو وقت کے ساتھ شہابیوں کے ٹکرانے سے مریخ کی سطح سے اڑ کر فوبوس پر پہنچا۔تقریباً 34 کروڑ 50 لاکھ ڈالر لاگت کا یہ مشن 28 سال بعد جاپان کا مریخ کی جانب پہلا خلائی مشن ہوگا، جبکہ اس کے ذریعے مستقبل میں مریخ سے نمونے زمین پر لانے کی ٹیکنالوجی بھی آزمائی جائے گی۔












